اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

اسلام آباد کے امیروں کی بھی سختی، جرمانہ ڈیم فنڈ میں جمع کرواؤ چیف جسٹس صاحب یہ آپ کا دربار ہے جو دل کرے فیصلہ کر دیں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار اور اعتزاز احسن کے درمیان دلچسپ نوک جھونک

datetime 12  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ میں چک شہزاد فارم ہاو?سز کیس کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کی کفایت شعار حکومت کا تذکرہ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چک شہزاد میں فارم ہاؤسز کے نام پر محل بنے ہوئے ہیں،امراء کو مزید امیر کرنے کیلئے فارم ہاو?سز دیے گئے،ایگرو فارم ہاو?سز کسانوں کو پھل اور سبزیاں اگانے کیلئے دیے جانے تھے،

ہمیں ان چھوٹے چھوٹے کسانوں کے نام بتائیں جنھیں فارم ہاوسز دیے گئے،اعتزاز صاحب کہیں ایسا نہ ہو نمازیں بخشوانے آئے روزے گلے پڑ گئے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ کا دربار ہے ایسا کرسکتے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ دربار نہیں عدالت ہے،یہاں فیصلے قانون کے مطابق ہوتے ہیں،اب کفایت شعاری والوں کو دیکھتے ہیں،کفایت شعاری کا نعرہ لگانے والے کیا اب عوام کو سہولیات دیں گے، دیکھ لیتے ہیں،کیا کفایت شعاری والے عوام کو سہولیات دینے کیلئے قانون سازی کریں گے،کیا سی ڈی اے کے اصل ماسٹر پلان پر عمل کرنے کیلئے کفایت شعاری والی حکومت قانون سازی کرے گی،فارم ہاو?سز بارے حکومت قانون سازی کرے گی پوچھ لیتے ہیں،ماسٹر پلان کیخلاف تعمیرات کو گرا دینا چاہیے،خلاف قانون بننے والے ایگرو فارم ہاؤسز کا جرمانہ ڈیمز فنڈز میں جمع کرائیں،اب اس ڈیم کو بننے سے کوئی نہیں روک سکتا،سکول کے بچے ابھی پانچ ہزار دے کر گئے ہیں،جرمانہ ڈیمز فنڈز میں جمع کرائیں گے،فارم ہاؤس پر محل بنانے والے ایک شخص کا نام لوں گا تو عدالت میں قہقہہ لگے گا، ان امیروں سے بات کرکے پوچھیں کتنا فنڈ جمع کرائیں گے، فارم ہاؤس والی سہولت کچی آبادی والوں کو کیوں نہیں دیتے،فارم ہاؤسز میں رہنے والوں کا کچی آبادیوں کیساتھ تبادلہ کروا لیتے ہیں،فارم ہاؤس پر محل بنانے والوں کے نام لینے پر مجبور نہ کریں،فریقین بتائیں فی سکیئر کتنا جرمانہ ادا کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…