اسلام آباد( آن لائن ) ماہر معاشیات ڈااکٹر اشفاق حسن نے کہا ہے کہ اگر لگژری گاڑیوں ، سیل فون ، پنیر اور پھلوں کی درآمدات پر ایک سال کی پابندی لگادی جائے تو 6 سے 7ارب ڈالر ہم بچا سکتے ہیں ، ہمیں آئی ایم ایف کے بغیر جیناہوگا ہمیں اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کاہا کہ اقتصادی مشاورتی کونسل کے پہلے اجلاس میں فی الحال تو کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔
تاہم نئی قائم کردہ ‘ای اے سی’ نے ملک کے بڑھتے ہوئے کرنٹ اکانٹ خسارہ کو روکنے کے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا اور آئی ایم ایف سے مزید قرض نہ لینے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اس اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور رہی کہ برآمدات کی کمی آور درآمدات میں ہوشربا اضافے سے پاکستانی معیشت میں ڈالر کی کمی ہے، جس کی وجہ سے روپے پر دباؤہے اور غیر ملکی زرمبادلہ کم ہو رہا ہے۔اس حوالے سے اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن اشفاق حسن خان نے بتایا کہ جمعرات کو منعقدہ اجلاس میں غیر روایتی تجاویز پیش کیں جس سے درآمدات کو کم کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں مجھے کوئی ایسا رکن نظر نہیں آیا جس نے یہ کہا ہو کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے کیونکہ ہمارے پاس کوئی اور حل نہیں، لہذا ہمیں کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کچھ نہ کرنا ناقابل قبول ہے۔خیال رہے کہ ای اے سی اجلاس پر اسد عمر کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم حال ہی میں سینیٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو مالیاتی ضروریات کے لیے 9 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور آئی ایم ایف کے پاس جانا آخری آپشن ہوگا۔اشفاق حسن خان نے بتایا کہ اجلاس میں بنیادی اقدامات جیسے غیر ملکی چیز، کاریں، موبائل فونز اور پھلوں پر ایک سال کی طویل پابندی لگانے سے متعلق تبادلہ خیال ہوا اور بتایا گیا کہ ان اقدامات سے ہم 4 سے 5 ارب ڈالر تک بچا سکتے ہیں اور ہماری برآمدات کو بھی 2 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس ملک میں باہر سے کتنا چیز آرہا ہے اور مارکیٹ درآمدی چیز سے بھری ہوئی ہیں، ایسے وقت میں جب ملک کے پاس ڈالرز نہیں ہیں تو کیا ایسی چیز کی درآمدات کی ضرورت ہے؟واضح رہے کہ گزشتہ برس سابق حکومت نے چیز، ہائی ہارس پاور کاروں سمیت 240 درآمدی اشیا پر 50 فیصد تک ٹیرف بڑھایا تھا اور درجنوں نئی درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹیز عائد کی تھیں لیکن کوئی درآمدی پابندیاں نہیں لگائی گئی تھیں۔



















































