ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

امریکی وزیر خارجہ کو پاکستان آمد پر ’’نو لفٹ‘‘ وزارت خارجہ میں ہونیوالے مذاکرات صرف کتنی دیر ہوئے؟ پاکستانی حکومت نے امریکہ کو واضح اور دو ٹوک پیغام دے دیا

datetime 4  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی پاکستان آمد، اعلیٰ پاکستانی حکام میں سے کسی نے استقبال نہ کیا، ائیرپورٹ پر دفتر خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری شجاع عالم رسیو کرنے گئے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو پاکستان کو دھمکیاں دینا مہنگا پڑ گیا اور پاکستان نے بھی امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے بعد اپنے روئیے میں سرد مہری

لاتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کو واضح پیغام دیدیا ہے کہ پاکستان امریکی دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں۔ پاکستان کی جانب سے امریکی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کے موقع پر کسی پاکستانی اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال نہیں کیا اور ائیرپورٹ پر امریکی وزیر خارجہ کو رسیو کرنے کیلئے دفتر خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری شجاع عالم موجود تھے۔ شجاع عالم کی جانب سے استقبال کے بعد مائیک پومپیو دفتر خارجہ پہنچے جہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا۔ جہاں پاک امریکہ وفود کی سطح پر مذاکرات کئے گئے اور یہ مذاکرات 40منٹ پر محیط تھے جس کے بعد امریکی وزیر خارجہ اور ان کا وفد واپس روانہ ہو گیا ہے۔ پاکستان پہنچنے پر وزارت خارجہ سمیت اعلی حکام میں سے کسی نے امریکی وزارت خارجہ کا استقبال نہیں کیا۔جب کہ اس سے پہلے جب بھی امریکہ کا آفیشل وفد پاکستان آیا تو ان کا پاکستان کے اعلی سطح کے حکام کی طرف سے استقبال کیا جاتا تھا۔تاہم اس بار امریکی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد پر ان کا استقبال دفتر خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری نے کیا۔جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اور امریکہ کے مابین کشیدہ حالات پر پاکستان نے امریکہ کو واضح پیغام دے دیا ہے۔واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے امریکہ سے پاکستان کیلئے روانہ ہوتے ہوئے بیان دیا تھا کہ پاکستان کوجنرل ملر اور امریکی فوج کی جانب سے پیغام دیدیا گیا ہے کہ اگر اس نے تعاون نہ کیا تو کیا ہو گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…