جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

کم از کم تنخواہ 30 ہزار اور پنشن 15 ہزار روپے مقرر کی جائے،عمران خان سے بڑا مطالبہ کردیاگیا

datetime 30  اگست‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (سی پی پی) سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ سرمایہ داروں نے مزدوروں کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا کیوں کہ مزدور طبقے نے ہمیشہ استحصال اور آمریت کے خلاف آواز اٹھائی۔ قومی مزدور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزدور طبقے، محبِ وطن قوتوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو دہشت گردوں کو شکست دینے کے لیے متحد ہونے کا کہا اور کہا کہ برابری ۔

بھائی چارے اور سماجی انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل دے کر قوم کی جدوجہد کو کامیاب بنائیں۔سینیٹر رضا ربانی نے یہ گفتگو آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن(اے پی ڈبلیو سی)کے تحت ہونے والی قومی مزدور کانفرنس سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب میں کی۔ان کا کہنا تھا کہ کام کی عزت اور جمہوریت قوم کی بہبود کے لیے لازم ہے، لیکن اشرافیہ طبقہ جدوجہد کرنے والے افراد کو دباتے ہیں اور ابھرنے نہیں دیتے۔اس کے علاوہ سینیٹر رضا ربانی نے پالیسی بیان میں متعدد مرتبہ یو ٹرن لینے پر نئی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنماؤں نے وزیراعظم عمران خان اور صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے اپنی اپنی جماعتوں کے منشور پر عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا جاسکے۔اس موقع پر اے پی ڈبلیو سی کے سیکریٹری جنرل خورشید احمد نے سالانہ رپورٹ اور قرارداد پیش کی ، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ صنعتوں، پرائیویٹ سیکٹر ، تجارتی اور مالیاتی اداروں میں کم سے کم تنخواہ 30 ہزار روپے مقرر کی جائے، اس کے ساتھ پینشن کی رقم بھی بڑھا کر 15 ہزار روپے کی جائے۔کانفرنس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ لیبر قوانین کا اطلاق کیا جائے اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے کنوینشن کے مطابق اس کی نگرانی کیلیے آزادانہ انسپکشن مشینری مقرر کی جائے۔کانفرنس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہزاروں صنعتوں میں لیبر قوانین کی نگرانی کے لیے محض 571 لیبر افسران موجود ہیں۔

جبکہ محکمہ زراعت میں اس معاملے میں کوئی ضابطہ کار موجود نہیں۔مزدور رہنماؤں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مالیاتی اداروں میں ٹریڈ یونینز بحال کی جائیں جبکہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے کنوینشن کے تحت مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔اس کے علاوہ 1965 کے سوشل سیکیورٹی اسکیم آرڈیننس کے تحت مزدوروں کو بڑھاپے میں مفت علاج کی سہولت بحال کرنے، بے گھر افراد کو زمین دینے، بچوں کا استحصال روکنے، جبری مشقت اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک اور ہراساں کیے جانے کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…