جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

منصوبےغیرملکی پیسوں سے بنتے اورچلانے کیلئے بھی بیرونی رقم کا انتظارکیاجاتاہے، سپریم کورٹ

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں غیر ملکی قرض لے کر منصوبے بن جاتے ہیں لیکن انہیں چلانے کے لئے فنڈز نہیں دیئے جاتے تو کیا ہمیشہ بھیک مانگ کر ہی گزارا کیا جائے گا۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سپریم کورٹ میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق از خود نوٹس کیس سماعت کی،سماعت کے دوران عدالت نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے سے متعلق وفاق اور صوبوں کی رپورٹ مسترد کردی۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ غیر ملکی قرض لے کر منصوبے بن جاتے ہیں چلانے کے لئے فنڈز نہیں دیئے جاتے، میونسپل اداروں میں گھوسٹ ملازمین کی بھرمار ہے، بڑی مچھلیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا، شہروں میں کچرے کو آگ لگا دی جاتی ہے جس سے آلودگی پھیلتی ہے، کراچی میں ہر طرف کچرے کے ڈھیر ہیں۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ خیبرپختونخوا کے اسپتالوں میں صفائی کا برا حال ہے کیا عدالت شہر شہر جا کر صفائی ستھرائی کے احکامات جاری کرے۔ ڈی جی ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ پشاور میں تین واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس غیر فعال ہیں۔ اے ڈی بی سے قرض لے کر پلانٹس لئے گئے تھے لیکن اب وسائل نہ ہونے کے باعث یہ بند پڑے ہیں ،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا ہمیشہ بھیک مانگ کر ہی گزارا کیا جائے گا اور اے ڈی بی ہر سال ہمیں قرضے ہی دیتا رہے گا، صوبائی حکومت فنڈز جاری کیوں نہیں کرتی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا کی رپورٹ میں لفظ سونامی کیا ہے جس پر کے پی کے حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ یہ صوبے میں درخت لگانے کی مہم کا نام ہے۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ سونامی کا مطلب تو تباہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…