بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

پاکستان چھوڑ کر بھارتی قومیت اختیار کرنے والے عدنان سمیع کا ایک اور غلط اقدام،پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھکا دیا، ہندوستان کا اعلیٰ ترین اعزاز حاصل کرنے کیلئے اپنے والد کے اہم کردار سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

ممبئی(آن لائن)پاکستانی شہریت چھوڑ کر بھارتی قومیت اختیار کرنے والے گلوکار و موسیقار عدنان سمیع خان نے ہندوستان کے اعلیٰ ترین ایوارڈ پدما شری کے لیے اپنے والد کے فوجی کردار سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔عدنان سمیع خان نے اپنے والد اور پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے سابق پائلٹ ارشد سمیع کے کردار اور خدمات سے لاتعلقی کا اظہار، بھارت میں خود پر کی جانے والی تنقید کے بعد کیا۔

عدنان سمیع خان کو بھارت میں اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب بھارتی حکومت نے انہیں 71 ویں یوم جمہوریہ پر 26 جنوری 2020 کو اعلیٰ ترین ایوارڈ ’پدما شری‘ دینے کا اعلان کیا۔بھارتی حکومت نے 26 جنوری کو مجموعی طور پر 118 ملکی و غیر ملکی شخصیات کو اس ایوارڈ سے نوازا اور جن افراد کو نوازا گیا ان میں موسیقار عدنان سمیع خان بھی شامل تھے۔عدنان سمیع خان کو بھارتی حکومت نے موسیقی میں ان کی خدمات کے پیش نظر اس ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کیا۔بھارتی حکومت کی جانب سے عدنان سمیع خان کو ایوارڈ دینے کے اعلان کے بعد ہی ان پر تنقید کی جانے لگی اور کئی لوگوں نے کہا کہ انہیں مودی سرکار کی چمچا گیری کرنے پر ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔جہاں عدنان سمیع پر بھارتی عوام نے تنقید کی وہیں ان پر شوبز شخصیات سمیت سیاسی شخصیات نے بھی تنقید کی اور ان پر سب سے زیادہ تنقید اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کی جانب سے کی گئی۔کانگریس کے ترجمان ویرشیر گل نے عدنان سمیع کو پدما شری ایوارڈ دینے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ موسیقار کو چمچا گیری کرنے پر ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔ویرشیر گل نے اگرچہ متعدد بھارتی اخبارات اور ویب سائٹس سے بات کرتے ہوئے عدنان سمیع پر تنقید کی تاہم انہوں نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت نے ایک پاکستانی فوجی کے بیٹے کو تو ایوارڈ دیا مگر حکومت نے ایک مسلمان بھارتی فوجی کو ایوارڈ تو دور کی بات اسے شہریت سے ہی خارج کردیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…