جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

کنگنا رناوت پاکستانی فنکاروں کے خلاف میدان میں آگئیں

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی) نامور بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کا کہنا ہے کہ ہم سب سے پہلے بھارتی ہیں اور پاکستانی فنکاروں پر پابندی کے حوالے سے بحیثیت فنکار یہ کہنا کہ ’’ہمیں کیا لینا دینا ہم تو آرٹسٹ ہیں‘‘ کہنے سے کام نہیں چلے گا۔ اداکارہ کنگنا رناوت نے نئی دہلی میں منعقدہ سیمینار میں شرکت کے دوران اپنے عقائد، جمہوریت، سیاست اور بھارت میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی سمیت متعدد موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔

کنگنا رناوت نے کہا کہ وہ قوم پرست ہیں اور انہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کی انفرادی ترقی ملک کی ترقی سے منسلک ہے۔ کنگنا رناوت نیاپنے عقیدے کے بارے میں کہا ’’وہ مذہب پر یقین نہیں رکھتیں، ان کی صرف ایک ہی شناخت ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ بھارتی ہیں۔کنگنا رناوت نے کہا کہ نوجوانی کے دور میں ہی مجھے اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ میں بھارت میں پیدا ہوئی ہوں اور میری شناخت ایک بھارتی شہری کے طور پر ہے، اس کے علاوہ میری کوئی شناخت نہیں۔ اگر بھارت ترقی نہیں کرتا تو میں بھی ترقی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مودی کی کہانی سے بہت متاثر ہیں اور اسی وجہ سے ان کی بہت بڑی مداح ہیں کہ کیسے وہ ایک عام چائے والے سے بھارت کے وزیر اعظم بنے۔ میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ یہ ان کی جیت نہیں ہے بلکہ جمہوریت کی جیت ہے۔کنگنا رناوت نے بھارت میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی کے حوالے سے کہا کہ فنکاروں کی دنیا ظاہری دنیا سے بہت مختلف ہے۔ آپ سرحد، فنکاروں کے دائرہ کار اور جغرافیائی حدود کے بارے میں بات کرتے ہوئے دو مختلف رائے کیوں اپناتے ہیں۔ آپ کو اس جگہ کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے جہاں لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔کنگنا رناوت کا کہنا تھا کہ جس وقت پاکستانی فنکاروں پر پابندی لگی ہوئی ہے اسی وقت ملک غیر محفوظ ہے .

جہاں لوگ اپنے جذبات سے مقابلہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ عام طور پر اس بارے میں بات کرتے ہوئے لوگوں کے جذبات یہ ہوتے ہیں کہ ’’ہم کو کیا لینا دینا، ہم تو آرٹسٹ ہیں‘‘۔ لیکن اس سے کام نہیں چلے گا۔ ہم سب سے پہلے ایک بھارتی ہیں اور جب آپ سرحدوں کے بارے میں بات کرتے ہیں اس وقت آپ باطنی دنیا میں نہیں جاسکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں ایک آرٹسٹ ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…