جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

بہت سے ممالک ہمارے فنکاروں کو اپنے پراجیکٹس کا حصہ بنا رہے ہیں، صدف بھٹی

datetime 12  مارچ‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی) اداکارہ وماڈل صدف بھٹی نے کہا ہے کہ ایک نہیں اب توبہت سے ممالک ان کو اپنے پروجیکٹس کا حصہ بنارہے ہیں۔اپنے ایک انٹرویو میں صدف بھٹی نے کہا کہ ایک فنکارکسی بھی ملک کا سفیرہوتا ہے لیکن اس کی فنی صلاحیتوں کے قدردان کسی ایک ملک میں نہیں بلکہ دنیا بھرمیں موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے فنون لطیفہ اورکھیل کے شعبوں سے وابستہ لوگوں کے چاہنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے ۔

مگراس کے باوجود کچھ لوگ ایسے فیصلے کربیٹھتے ہیں، جس سے ان کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے اورملک کی بدنامی بھی ہوتی ہے۔اداکارہ نے کہا کہ اگردیکھا جائے توبظاہرہمارے پڑوسی ملک نے پاکستانی فنکاروں اورتکنیکاروں پرپابندی عائد کردی ہے لیکن اس کا نقصان ہمیں نہیںبلکہ ان کوخود ہورہا ہے۔ ایک طرف توراحت فتح علی خاں اورعاطف اسلم سمیت دیگرفنکاروں سے ہاتھ دھونے پڑے اوراس کے علاوہ فلموں کا کاروباربھی متاثرہورہا ہے۔صدف بھٹی نے کہا کہ یہ بات توکسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ راحت، عاطف اورفواد خان اس وقت بالی وڈ کی سب سے زیادہ ضرورت بن چکے تھے۔ موسیقی کے شعبے میں ہمارے عظیم گلوکاروں نے بالی وڈ کے تمام پلے بیک سنگرز کی چھٹی کردی تھی ،جبکہ ایکٹنگ کے میدان میں فواد خان کی طرف سے عمدہ اداکاری کا ریڈ سگنل بھی سب کوپریشان کرنے لگا تھا۔اداکارہ نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اپنی جان چھڑوانے اور بھارتی فنکاروں اورگلوکاروں کو بے روزگار ہونے سے بچانے کیلیے سارا کھیل رچایا گیا۔ مگر اس سازشی کارروائی کی چال اب سب کے سامنے ہے اورجس طرح سے بھارت کے بہت سے فنکاروں نے اس بات پرحکومت اورایسوسی ایشن کے فیصلے کوتنقید کا نشانہ بنایا ہے، اس کے بعد توساری دنیا میں بھی اس مسئلے پربھارت کی منفی سوچ کونشانہ بنایا جارہا ہے۔صدف نے کہا کہ پاکستانی فنکارہوں یا گلوکار وہ جہاں بھی چلے جائیں لیکن ان کے نام کے ساتھ توپہلے پاکستان کا نام آتاہے، جوان کے لیے باعث فخربات ہے۔ باقی رہا کام بالی وڈ یا کسی بھی ملک میں کام کرنے کا توہمارے فنکاروں کی صلاحیتوں سے پوری دنیا واقف ہے اوران کی ضرورت کے مطابق ایک نہیں اب توبہت سے ممالک ان کواپنے پروجیکٹس کا حصہ بنارہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…