جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

جب پشاور میں نـصرت فتح علی خان کی پرفارمنس کے دوران ایک شخص نے بندوق تان لی

datetime 18  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک)بھارت کے معروف کامیـڈی شو ’’کپل شرما ‘‘شو میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی لیجنڈ گلوکار راحت فتح علی خان نے اپنے استاد اور تایا نصرت فتح علی خان کے1977-78میں پشاور میں ایک شو کا دلچسپ قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ خان صاحب پشاور میں ایک تقریب میں پرفارم کر رہے تھے۔ ان کےگروپ کا مستقل رکن ایک طبلہ بجانے والا تھا

جو ہر ایک منٹ بعد ’’لے‘‘کو نیچے گرا دیتا تھا ، خان صاحب اس کی اس عادت سے واقف تھے مگر اس دن وہ طبلے والا حیران کن طور پر ’’لے‘‘کو ہائی بیٹ پر رکھ رہا تھا جس پر خان صاحب بہت حیران تھے، انہوں نے کچھ دیر بعد پیچھے مڑ کر دیکھا تو پریشان ہو گئے اور انہیں طبلے والے کی ’’ہائی بیٹ لے‘‘کا راز بھی پتہ چل گیا۔ ہوا کچھ یوں کے ایک خان صاحب نے طبلے والے کی پسلیوں پر پستول رکھا ہوا تھا جس سے خوفزدہ ہو کر وہ ’’لے‘‘گرا نہیں رہا تھا ، خان صاحب کے پیچھے مڑ کر دیکھنے پر طبلے والا کہنے لگا، خان صاحب آپ گائیں ، گائیں، کوئی مسئلہ نہیں۔ راحت فتح علی خان کا یہ قصہ سنانے کی دیر تھی کہ ’’کپل شرما‘‘شو میں موجود شرکا اور میزبانوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا۔انہوں نے کچھ دیر بعد پیچھے مڑ کر دیکھا تو پریشان ہو گئے اور انہیں طبلے والے کی ’’ہائی بیٹ لے‘‘کا راز بھی پتہ چل گیا۔ ہوا کچھ یوں کے ایک خان صاحب نے طبلے والے کی پسلیوں پر پستول رکھا ہوا تھا جس سے خوفزدہ ہو کر وہ ’’لے‘‘گرا نہیں رہا تھا ، خان صاحب کے پیچھے مڑ کر دیکھنے پر طبلے والا کہنے لگا، خان صاحب آپ گائیں ، گائیں، کوئی مسئلہ نہیں۔ راحت فتح علی خان کا یہ قصہ سنانے کی دیر تھی کہ ’’کپل شرما‘‘شو میں موجود شرکا اور میزبانوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…