ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان سے محبت اوم پوری کی موت پر خوشی کون منا رہا ہے؟

datetime 8  جنوری‬‮  2017 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بولی وڈ کے معروف اداکار اوم پوری کے اچانک انتقال پر دنیا بھر کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے غم ذدہ ہیں، تاہم ایسے موقع پر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں اداکار کی موت کی خوشی ہے۔ہندوستان سے تعلق رکھنے والے کئی افراد نے سوشل میڈیا پر اوم پوری کے انتقال کی خوشی منائی، ایک صاحب نے گالی دیتے ہوئے کہا کہ ‘کیا میں وہ واحد شخص ہوں جسے اوم پوری کے انتقال کی خوشی ہے’۔جبکہ ایک صارف نے کہا کہ ‘اوم پوری کے انتقال کی بیحد خوشی ہے، ایسی گندگی ہندوستان میں دوبارہ پیدا نہیں ہونی چاہیے’۔
اور ایسے کئی پیغامات معروف اداکار کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے۔اس موقع پر بولی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر نے ان تمام لوگوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘جو خود پر دیش بھگت کا نقاب چڑھائے رکھتے ہیں، آج ان لوگوں کی گندگی نظر آ گئی، جن میں نہ ہی انسانیت ہے اور نہ ہی شرافت، اوم پوری وہ انسان ہیں جنہوں نے ہندوستان کو تم سے بہت زیادہ عزت دلوائی’۔
سوارا کا مزید کہنا تھا کہ ‘آج کل حب الوطنی کے نام پر سراسر گندگی دکھائی جارہی ہے، اوم پوری نے ہندوستان کے لیے ان تمام لوگوں سے بہت زیادہ کیا، جتنا انسانی شکل میں یہ گندگیاں کبھی سوچ بھی سکیں’۔واضح رہے کہ گزشتہ سال اوم پوری نے اوڑی حملے پر پڑوسی ملک سے کشیدگی کے دوران پاکستانی فنکاروں پر پابندی لگانے کے خلاف آواز اٹھائی تھی، جس کے بعد ان پر مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔
ایک لائیو شو میں انٹرویو دیتے ہوئے اوم پوری نے کہا تھا کہ ’جب حکومت کوئی ایکشن لے، تو ہم سب کو خاموش رہنا چاہیے، میں 6 مرتبہ پاکستان کا دورہ کرچکا ہوں، مجھے وہاں سے ہمیشہ پیار ہی ملا ہے، اگر پاکستانی اداکار ہندوستان میں کام چھوڑ کر چلے جائیں تو ہندوستان کا بھی نقصان ہوگا‘۔اس بیان کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…