جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

انسانی بالوں سے تیار کردہ ٹوتھ پیسٹ دانتوں کے لیے مددگار؟ سائنسدانوں کی حیران کن تحقیق

datetime 19  اگست‬‮  2025 |

لندن(این این آئی)لندن کی کنگز کالج کے محققین نے بالوں میں موجود کیراٹین نامی پروٹین سے دانتوں کی حفاظت کا ایک نیا اور بہتر طریقہ دریافت کر لیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق نیو اٹلس کی ایک رپورٹ کے مطابق کنگز کالج لندن کے محققین نے ایک بہترین حل تلاش کیا ہے۔دانتوں کے لیے ایک طاقتور علاج کی تلاش میں محققین کی ٹیم نے پہلے بالوں سے کیراٹین نکالا۔ اس تحقیق میں بھیڑ کا اون استعمال کیا گیا لیکن یہی پروٹین انسانوں سمیت زیادہ تر جانوروں کے بالوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

کیراٹین ایک پروٹین ہے جو ناخنوں، جلد اور کچھ اندرونی اعضا میں بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ جسم کو ساخت فراہم کرتا ہے اور میکینکل نقصان سے بچاتا ہے۔محققین نے دریافت کیا کہ ان کا کیراٹین پر مبنی ٹوتھ پیسٹ جب تھوک کے ساتھ ملتا ہے تو ایک کرسٹل جیسی ساخت بناتا ہے۔یہ ساخت کیلشیم اور فاسفیٹ آئنز کو اپنی طرف کھینچتی ہے جو دانتوں کو محفوظ اور مرمت کرنے کے لیے انامل کا کام کرتی ہے۔ یہ فلورائیڈ کے برعکس ہے جو صرف دانتوں کے سڑنے کے عمل کو آہستہ کر سکتا ہے۔ محققین نے تجربات میں یہ بھی سمجھا کہ یہ کیراٹین والا ٹوتھ پیسٹ سڑنے کے عمل کو مکمل طور پر روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ کیراٹین پر مبنی دانتوں کا یہ علاج کئی اور فوائد بھی فراہم کرتا ہے۔جرنل “ایڈوانسڈ ہیلتھ کیئر میٹیریلز میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی مرکزی محقق سارہ جامع نے کہا کہ “کیراٹین دانتوں کے موجودہ علاجوں کا ایک انقلابی متبادل پیش کرتا ہے ۔ یہ جدید پیسٹ بالوں اور جلد جیسے بائیو لاجیکل فضلے سے بنتا ہے اور یہ دانتوں کی مرمت میں استعمال ہونے والے روایتی پلاسٹک ریزن کا متبادل ہے۔ یہ روایتی پیسٹ سستے اور کم پائیدار ہیں۔ کیراٹین قدرتی ہونے کی وجہ سے دانتوں کے اصلی رنگ سے زیادہ بہتر طور پر میل کھا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…