منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

بڑی موبائل فون کمپنی کا پاکستان میں موبائل فونز تیار کرنے کا منصوبہ

datetime 9  جولائی  2021 |

کراچی (این این آئی)سام سنگ کمپنی کی جانب سے پاکستان میں موبائل مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے کے لیے 3 سرمایہ کاروں سے بات چیت جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ 3 پارٹیوں میں سے ایک کے پاس کوریا کی فرنچائز ہے جس نے آٹو ڈیولپمنٹ پالیسی (اے ڈی پی) 21-2016 کے تحت پاکستان میں گاڑیوں کے اسمبلنگ کے پلانٹس قائم کر رکھے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا کیوں کہ سام سنگ موبائل فون کی مینوفیکچرنگ کے لیے متعدد کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کرنے کے بعد ان میں سے ایک کو لائسنس دینے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہے۔اسمارٹ فون بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی نے آمدن کے تخمینے میں کہا کہ اسے اپریل سے جون کے دوران تقریبا 125 کھرب (11 ارب ڈالر)منافع حاصل کرنے کی توقع ہے جو ایک سال قبل کے 81 کھرب 50 ارب سے زیادہ ہے۔موبائل فون سیکٹر میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھنے والے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ‘کورین کمپنی رواں برس کی آخری سہ ماہی میں سیل فون کی مقامی مینوفیکچرنگ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے’۔مارکیٹ ذرائع نے کہا کہ سام سنگ پاکستان میں کام کرنے والی کورین کمپنیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ معاہدہ کرنے کے آپشن کو ترجیح دے سکتی ہے جس کی وجہ کمفرٹ لیول (آسانی) ہے جو شاید غیر کورین کمپنیوں کے ساتھ اسے نہ مل سکے۔وزارت صنعت و پیداوار کے ایک شعبے انجینیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے سال 2020 میں موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی منظور کی تھی جس کے بعد مارچ سے جون تک 21 کمپنیوں کو موبائل فون مینوفیکچرنگ کے لیے گرین سگنل مل چکا ہے۔ای ڈی بی کی فہرست کے مطابق نوکیا،

اوپو، انفنکس، ٹیکنو، آئی ٹیل، ویو، الفا، ریئل می، ویگوٹیل، ڈی کوڈ، کال می، ایکسیل، اسپائس، ٹی سی ایل الکاٹیل برانڈ کی یہ فیکٹریاں راولپنڈی، کراچی، لاہور، فیصل آباد اور اسلام آباد میں قائم ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایم ڈی ایم پی تشکیل دیا ہے تا کہ پاکستان میں موبائل مینوفیکچرنگ یونٹ لگانے کا فیصلہ لینے کے لیے غیر ملکی

سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔اس کا مقصد “میک ان پاکستان” کے بینر تلے مصنوعات کی تیاری اور درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2021 کے 11 ماہ کے دوران موبائل فون کی درآمد 63 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ارب 86 کروڑ ڈالر کی سطح تک جا پہنچی

جبکہ مالی سال 2020 کے اسی عرصے میں یہ ایک ارب 13 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھی۔مالی سال 2021 کے جولائی تا فروری کے عرصے میں ٹیلی کام میں آنے والی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 10 کروڑ 11 لاکھ ڈالر تھی جبکہ جولائی تا دسمبر ٹیلی کام آپریٹرز نے 36 کروڑ 39 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔اس سرمایہ کاری

کا مرکزی محرک سیلولر موبائل سیکٹر ہے جس نے اس عرصے میں 25 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔مالی سال 2021 کے ابتدائی 8 ماہ کے عرصے میں ٹیلی کام سیکٹر میں مجموعی سرمایہ کاری 46 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سطح عبور کر گئی۔مئی 2021 تک پاکستان میں سیل فون رکھنے والوں کی تعداد 18 کروڑ 34 لاکھ 80 ہزار ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…