جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

ناساکی پہلی بار خاتون خلا باز کو چاند پر بھیجنے کی تیاری کل کتنا خرچہ آئیگا؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 22  ستمبر‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی )امریکی خلائی ادارے ناسا نے پہلی بار چاند کے قطب جنوب میں خلابازوں کو بھیجنے کے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ 1972 کے بعد چاند پر خلا بازوں کی ٹیم کا یہ پہلا مشن ہوگا جس میں ایک خاتون بھی شامل ہوں گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا نے 1972 کے بعد پہلی بار چاند پر خلا بازوں کو بھیجنے کے ایک منصوبے کا اعلان کیا

جو پہلی بار چاند کے قطب جنوب میں اتریگا۔ اس مشن میں شامل خلابازوں میں ایک خاتون بھی شامل ہوں گی اور اس طرح اگر یہ مشن کامیاب ہوا تو پہلی بار خاتون خلا باز چاند پر قدم رکھ سکیں گی جبکہ تاریخ میں دوسری بار انسان چاند پر پہنچے گا۔ ادارے کے مطابق یہ مشن 2024 میں بھیجا جائے گا۔ناسا کی ویب سائٹ پر ادارے کے موجودہ منتظم جم بریڈن اسٹائن نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہاکہ ہم سائنسی دریافت، معاشی فوائد اور نئی نسل کے تلاش کاروں کے حوصلہ افزائی کے لیے چاند پر دوبارہ جار رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ پر تقریبا 28 ارب ڈالر کا خرچ آئیگا اور چونکہ صدر ٹرمپ کی ترجیحات میں اس منصوبے کو اعلی مقام حاصل ہے اس لیے امریکی پارلیمان کو فوری طور پر اس کا بجٹ منظور کرنے کو کہا گیا ہے۔ ناسا کے منتظم برائیڈن اسٹائن نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اگر کانگریس ابتدائی تین اعشاریہ دو ارب ڈالر کا بجٹ آئندہ کرسمس تک منظور کر لیتی ہے توپھر ناسا  2024 تک چاند پر اترنے کے راستے پرگامزن ہے۔اس مشن کا نام آرٹمس رکھا گیا ہے جسے کئی مرحلوں انجام دیا جائیگا۔ اس کے لیے سب سے پہلے 2021 میں نومبر تک ناسا کو بغیر پائلٹ والے اپنے خلائی جہاز اورائن کو لانچ کرنا ہوگا۔ مشن کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں خلا باز پہلے چاند کا چکر لگائیں گے اور پھر چاند کی سطح پر اتریں گے۔1969 میں جس طرح اپولو11 نامی خلائی جہاز انسانوں کو  چاند پرلے کر پہنچی تھی بالکل اسی انداز میں آرٹمس مشن بھی خلا بازوں کو چاند پر لے کر جائیگا اور اپولو مشن سے زیاہ مدت، تقریبا ایک ہفتے تک وہاں قیام کرے گا۔ اس دوران مشن غیر معمولی طور پانچ اہم سرگرمیاں مکمل کرنے کی کوشش کریگا۔ناسا کا کہنا تھا کہ اس بار یہ حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ خلائی گاڑی چاند کے قطب جنوب میں اترے گی۔ صحافیوں سے بات چیت میں بریڈین اسٹائن نے کہاکہ اس کے علاوہ کسی اور چیز پر بات چیت نہیں ہورہی ہے۔انہوں نے اس بات کو سختی سے مسترد کیا کہ سنہ 1969 اور 1972 کے اپولو مشن کی طرح اس بار بھی خلا باز چاند کے خط استوا پر لینڈ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشن کے تحت ہم جو سائنسی تجربات کرنے جا رہے ہیں،وہ پہلے ہم نے جو بھی کیا ہوا ہے اس سے قطعی مختلف ہے۔ ہمیں اس اپولو مشن کے دور کو بھی یاد رکھنا چاہیے جب ہمیں یہ لگا تھا کہ چاند پوری طرح سے خشک ہے۔ لیکن اب ہمیں معلوم ہے کہ چاند پر پانی کی کافی برف موجود ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ یہ چاند کے قطب جنوب میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…