بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

انسانی دماغ میں 100 ارب سے زائد کمپیوٹر ہمہ وقت کام کرتے ہیں

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

بوسٹن(این این آئی) ہمارے دماغ کا ہر خلیہ ایک چھوٹے (منی) کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے۔ اس لحاظ سے انسانی دماغ میں 100 ارب سے زائد کمپیوٹر ہمہ وقت کام کرتے رہتے ہیں۔اس ضمن میں ماہرین نے پہلی مرتبہ انسانی دماغ میں برقی سرگرمی کی بنیاد پر تحقیق کی ہے جس میں انسانی دماغی خلیات (نیورونز) کی انتہائی گہرائی سے تفصیلات لی گئی ہیں۔ اس تحقیق کے بعد انسان اور چوہوں کے

دماغ اور ان سے وابستہ اعصاب کے درمیان تعلق پر بات کی گئی ہے جس سے بڑی حد تک انسانی دماغ و ذہانت کی قوت سامنے آئی ہے۔انسانی دماغ میں ایک سو ارب سے زائد نیورونز پائے جاتے ہیں اور ایک خلیہ دوسرے سے ہزاروں روابط رکھتا ہے جبکہ خلیے ایک دوسرے کے ساتھ برقی جھماکوں کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں۔ اگرچہ اس ضمن میں چوہوں کے خلیات پر بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن انسانی خلیات پر تحقیق نہیں ہوئی تھی۔اس کیلیے میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہر مارک ہارنیٹ نیایسے سرجنوں سے رابطہ کیا جو مرگی کے مریضوں کے دماغ سے انتہائی باریک نمونے لیتے ہیں۔ ہارنیٹ نے ان نمونوں پر انتہائی باریک، حساس اور خردبینی برقیرے (الیکٹروڈ) لگائے اور نیورونز کی گہرائی تک برقی سرگرمی کو نوٹ کیا۔مارک نے ثابت کیا ہے کہ ہر دماغی خلیے کی باریک شاخیں ہوتی ہیں جنہیں ڈینڈرائٹس کہا جاتا ہے اور ایک خلیے سے اوسطاً 50 ڈینڈرائٹس جڑے ہوتے ہیں۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ ہر ڈینڈرائٹ کے سیکڑوں تار جیسے کنیکشنز ہوتے ہیں جنہیں ’’سائنیپسز‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہرتار سے ایک خلیہ جڑا ہوتا ہے۔اس طرح انسانی دماغ میں ہر خلیے کے ڈینڈرائٹ سے ہزاروں رابطے نکلتے ہیں اور یہ سب مل کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کس طرح کئی سگنل خارج کرنے ہیں۔ اس لحاظ سے ماہرین نے کہا ہے کہ ہر خلیہ اپنی قوت کے لحاظ سے ایک منی کمپیوٹر ہی کی طرح ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…