بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

ای سگریٹ انسان کیلئے مضر صحت قرار ، تمباکو کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

datetime 6  مئی‬‮  2018 |

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) عام تمباکو نوشی کی بجائے ای سگریٹ کو انسانی صحت کیلئے کم نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے لیکن تازہ تحقیق نے اس بات کو غلط ثابت کر دیا ہے ، موجودہ دور میں ای سگریٹ کو انسانی خون کیلئے زیادہ خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی یہ تحقیق سامنے آچکی ہے کہ الیکٹرانک سگریٹ سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں پائے جانے والے زیادہ تر خیالات غلط ہیں ۔

کیوں کہ یہ بھی اتنے ہی خطرناک ہیں، جتنے تمباکو سے بھرے ہوئے سگریٹ ہوتے ہیں۔ ماضی میں سامنے آنی والی تحقیقات میں بتایا گیا تھا کہ ای سگریٹ نکوٹین کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے، جس وجہ سے یہ دل کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ تاہم ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکٹرانک سگریٹ میں ملائے جانے والے فلیور میں زہریلا کیمیکل ملایا جاتا ہے، جو بجلی سے چارج ہونے کے بعد مزید زہریلا بن کر انسانی صحت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ سائنس جرنل ’فرنٹیئرز ان فزیولاجی‘ میں شائع ایک تحقیق کے مطابق ای سگریٹ میں ملائے جانے والے فلیورزمیں ملائے جانے والے کیمیکلز میں پائے گئے زہریلے مادے سے انسانی صحت پر خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکا کی یونیورسٹی آف روسچر میڈیکل سینٹر کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ای سگریٹ کے فلیورز میں ملایا جانے والا کیمیل انسانی خون کے سفید خلیات کو ختم کردیتا ہے۔ ای سگریٹ میں شامل کیے جانے والے فلیورز میں سب سے زیادہ خطرناک ’دارچینی، ونیلا اور روغنی‘ فلیورز کو قرار دیا گیا، جو سفید خون کے خلیات کو تیزی سے ختم کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فلیورز میں پائے جانے والے کیمیکلز سے کینسر ہونے کے شواہد بھی ملے۔اس سے پہلے بھی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ای سگریٹ میں ملائے جانے والے فلیورز میں پایا جانے والا کیمیکل انسان کو ذہنی دباؤ کا شکار

بنانے کا سبب بنتے ہیں۔ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صرف امریکا میں ہی الیکٹرانک سگریٹ بنانے والے 500 مختلف برانڈز ہیں، جو 8 ہزار سے زائد فلیورز میں سگریٹ تیار کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ای سگریٹ سے متعلق لوگوں کو زیادہ شعور نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ ایک دہائی میں اس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا، جس وجہ سے نوجوان نسل بیماریوں کا بھی شکار ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…