بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

فیس بک نے دوستوں کی تلاش کا اہم فیچر ختم کر دیا

datetime 7  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مختلف تنازعات میں گھری دنیا کی مقبول ترین سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے اپنی سائٹ پر دوستوں کی تلاش کا آسان فیچر ختم کر دیا ہے۔ فیس بک کی جانب سے کیمبرج اینالیٹکا اسکینڈل کے بعد سے صارفین کا اعتماد جیتنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور اب سوشل نیٹ ورک کے سی ٹی او مائیک شروفر نے تسلیم کیا ہے کہ اس اسکینڈل کے نتیجے میں 8 کروڑ 70 لاکھ صارفین کا ڈیٹا متاثر ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہوسکے اور اس مقصد کے لیے کی جانے والی سیکیورٹی ایڈجسٹمنٹ کے طور پر فیس بک نے ایک اہم فیچر کو ڈس ایبل کردیا ہے۔ اس فیچر کے ذریعے فیس بک پر کسی صارف کو اس کے فون نمبر یا ای میل کے ذریعے ڈھونڈا جاسکتا تھا اور اکثر افراد کے لیے اپنے دوستوں کو اس کی مدد سے تلاش کرنا آسان ہوتا تھا، کیونکہ ایک ہی نام کے متعدد اکاﺅنٹس میں سے دوست کو نام سے ڈھونڈنا آسان نہیں۔ تاہم فیس بک نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ مشتبہ عناصر اس فیچر کا غلط استعمال کرکے فون نمبر یا ای میل سرچ باکس پر لکھ کر سامنے آنے والی پروفائل کی عوامی معلومات کا غلط استعمال کرتے۔ اور اس تبدیلی کے کافی زیادہ اثرات مرتب ہونے والے ہیں کیونکہ کمپنی کے خیال میں یہ ان کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔دوسری جانب فیس بک نے صارف کے ڈیٹا کے انتظام کے حوالے سے تبدیلیوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ ایک بلاگ پوسٹ میں اس کی مکمل تفصیلات پڑھی جاسکتی ہیں تاہم اہم تبدیلی فیس بک کی جانب سے کال اور ٹیکسٹ ہسٹری میں کی جانے والی تبدیلیاں ہیں۔ اینڈرائیڈ پر میسنجر یا فیس بک لائٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے کال اور ٹیکسٹ ہسٹری کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ اس فیچر پر نظرثانی کررہی ہے اور تصدیق کرتی ہے کہ پیغامات میں کوئی مواد اکھٹا نہیں کیا جارہا۔ مزید براں ایک سال سے پرانی لاگز کو ڈیلیٹ کردیا جائے گا اور فیچر کو فعال رکھنے کے لیے معمولی ڈیٹا ہی اکھٹا کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…