منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

‘انسانیت کی بقا خلا میں بسنے میں چھپی ہے’

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اگر تو انسانیت کو تیسری جنگ عظیم سے بچانا ہے تو انسانوں کو زمین سے باہر دیگر سیاروں میں بسانا ہوگا۔ یہ وہ خواب یا عزم ہے جو ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کے اندر موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ چاند اور مریخ پر بیسز قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ‘ہم میٹرکس جیسے کمپیوٹر پروگرام کا حصہ ہیں’ گزشتہ روز ساﺅتھ بائی باﺅتھ ویسٹ فیسٹیول میں لوگوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ‘ ممکنہ طور پر انسانیت کو ایک اور تاریک عہد کا سامنا ہوسکتا ہے ۔

خصوصاً اگر مستقبل میں ایک اور جنگ عظیم چھڑ گئی، ہمیں اس تباہی سے بچنے کے لیے کچھ انسانوں کو خلا میں بھیجنا ہوگا تاکہ زمین پر انسانیت کو پھر سے زندہ کیا جاسکے’۔ اگرچہ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کوئی پیشگوئی نہیں کررہے، تاہم انہیں لگتا ہے کہ ہمیں کسی اور جنگ عظیم سے قبل یہ اقدام کرلینا چاہئے۔ واضح رہے کہ ایلون مسک مستقبل قریب میں کمرشل خلائی سفر اور بالائی خلا میں صنعتوں کے قیام کے منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ان کی کمی نے گزشتہ دنوں سب سے طاقتور راکٹ فالکن ہیون کے لانچ کا کامیاب تجربہ بھی کیا جبکہ دو پروٹوٹائپ سیٹلائیٹ بھی زمین کے مدار پر بھیجے گئے۔ ایلون مسک اگلے 40 سے 100 برسوں کے دوران 10 لاکھ انسانوں پر مبنی مریخ کالونی کا منصوبہ بھی رکھتے ہیں ۔ انسانوں کو 2024 تک ‘مریخ’ پر لے جانے کا منصوبہ انہوں نے کہا کہ مریخ میں پیزا ریسٹورنٹس سے لے کر نائٹ کلب تک، سب کچھ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسپیس ایکس کے ابتدائی تجربات ناکام ہونے پر انہیں مزید تجربوں کے لیے اپنے دوست سے ادھار لینا پڑا تھا۔ ایلون مسک آرٹی فیشل انٹیلی جنس کو انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں اور گزشتہ روز بھی انہوں نے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جوہری ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہم ہر ایک کو جوہری ہتھیار بنانے کا موقع دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…