منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

دنیا سموگ سے پریشان اور پاکستانی طلبا حل نکال لائے عالمی ماہرین ہکا بکا رہ گئے، جان کر آپ بھی فخر محسوس کرینگے

datetime 15  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور (این این آئی) سموگ پر قابو پانے کیلئے گو رنمنٹ کا لج یو نیورسٹی لاہور کے بی اے (آنرز) بائیوٹیکنالوجی کے طلباء نے ماحول دوست حل پیش کر دیا ،سورج مکھی کا پھول سموگ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔سموگ کے شکار علاقوں میں سورج مکھی کے پھولوں کی کاشت سے آلودگی کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔جی سی یونیورسٹی کے شعبہ بائیوٹیکنالوجی کے طلباء نے

اپنی یہ تجویز یونیورسٹی میں منعقدہ سموگ کے خلاف آگاہی واک کے موقع پر پیش کی ۔ان کا کہنا تھا کہ سائنسی طور پر یہ بات ان کی تحقیقی میں آئی ہے کہ سورج مکھی کا پھول قدرتی طور پر سموگ میں شامل خطرناک ذرات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ے۔آگاہی واک کی قیادت انسٹیٹیوٹ آف انڈسٹریل بائیوٹیکنالوجی کے چیئرمین پروفیسرڈاکٹر حامد مختار نے کی ۔ان کا کہنا تھا کہ سموگ اس وقت شہر کو درپیش مسائل میں سب سے اہم ہے،جس کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔سموگ کے ذرات انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں اور جسم میں بہت آرام سے داخل ہو جاتے ہیں اور مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں ۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے بھی طلباء کی تجویز کو سراہا اور اس پر مزید کام کرنے اور تحقیقی مقالہ جات شائع کرنے کی تجویز دی۔وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ جاپان میں نیو کلیئر تابکاری کے خاتمے کے لیئے بھی بڑی سطح پر سورج مکھی کے پھولوں کو کاشت کیا گیا تھا،جو تابکاری اور زہریلے مادے کو جذب کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سموگ کو کنٹرول کرنے کے لیئے دنیا بھر میں تحقیق ہو رہی ہے اور سموگ ٹاور سمیت مختلف حل تلاش کیئے جا رہے ہیں ،لیکن یہ حل انتہائی مہنگے ہیں اور اس سے دوسرے کئی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔سورج مکھی کی کاشت کا طریقہ کافی فائدہ مند ہے اور اس سے

1ملک کو معاشی فائدہ بھی ہوگا۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ آلودگی کو کنٹرول کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس میںسائنسدانوں اور عام انسانوں کی بھی اہم کرادر ہے۔انہوں نے تلقین کی کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ پودے اور پھول لگانے چاہیئے تاکہ ہم آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوط کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…