بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

’’دنیا خطرے کے دہانے پر ‘‘ 150سے زائد ممالک حرکت میں آگئے ،اہم فیصلہ کر لیا گیا

datetime 15  اکتوبر‬‮  2016 |

پیرس( آن لائن )زمین کے ماحول کے تحفظ کیلئے دنیا کے 150 سے زیادہ ممالک نے ہائیڈروفلورو کاربن یعنی گرین ہاؤس گیسز کو محدود کرنے کے لیے معاہدہ کر لیا عالمی ماحولیاتی معاہدہ پیرس کانفرنس میں طے پا یا ہائیڈروجن، فلورین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ گیسز ہیں جو فریزرز، ائیر کنڈیشنرز اور سپریز میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ اور یہ عالمی حدت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ معاہدے میں شریک ممالک نے مونٹریال پروٹوکول میں ایک مشکل ترمیم پر بھی اتفاق کیا جس کے تحت ترقی یافتہ ممالک غریب ممالک سے پہلے ہائیڈروجن، فلورین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے استعمال کو کم کریں گے ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ 2019 سے اس پر عمل درآمد شروع کریں۔لیکن بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے جتنی توقعات ہیں اس قدر اس کے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے اس معاہدے کو بڑا قدم قرار د یتے ہوئے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف انفرادی سطح پر ممالک کی ضروریات کے بارے میں ہے بلکہ اس سے ہمیں یہ بھی موقع ملا ہے کہ ہم کرہ ارض کی حدت نصف ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کریں۔ائیر کنڈیشنرز میں بھی ایچ ایف سی گیسز استعمال ہوتی ہیں تاہم شرکا کو گرمی سے بچانے کے لیے کانفرنس میں ائیر کنڈیشنرز کا استعمال کیا گیا چین، لاطینی امریکہ اور جزیرہ نما ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سنہ 2024 تک ایچ ایف سی گیسوں کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیں۔دیگر ترقی پذیر ممالک جن میں انڈیا، پاکستان، ایران، عراق اور خلیجی ممالک شامل ہیں کو سنہ 2028 تک ان گیسوں کا استعمال ترک کرنے کے لیے مہلت دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ چین ایچ ایف سی گیسوں کو استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔گذشتہ برس دسمبر میں پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں تقریباً دو ہفتے کی سرتوڑ کوششوں کے بعد ماحولیات کا حتمی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت 2050 تک دنیا کے درجہ حرارت میں اضافے کو دو ڈگری تک محدود کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…