بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

فضا میں اڑنے کے ساتھ سمندرمیں تیرنے والا ڈرون تیا ر

datetime 1  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیو ز ڈیسک)ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال اب عام ہوچکا ہے۔ پہلے یہ ٹیکنالوجی صرف عسکری مقاصد تک محدود تھی۔ امریکی سائنس دانوں نے ڈرون ٹیکنالوجی جاسوسی اور نگرانی کے مقاصد کے لیے ڈیولپ کی تھی، مگر چند برسوں کے دوران اس کا عام مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔آج دنیا بھر میں ڈرون طیاروں کی مدد سے مختلف کام لیے جارہے ہیں اور نجی ادارے بھی چھوٹے ڈرون استعمال کررہے ہیں۔ عسکری نقطہ نظر سے عام ہو جانے کے باوجود ڈرون ٹیکنالوجی کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اسے مزید موﺅثر بنانے کے لیے تحقیق کا سلسلہ جاری ہے۔ عسکری میدان میں سامنے آنے والی نت نئی ایجادات اور اختراعات کا تعلق عام طور پر امریکا سے ہوتا ہے۔ کتنے ہی امریکی ماہرین اپنی افواج کے لیے جدید ہتھیار اور مختلف آلات تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ انہی میں سے ایک رائجرز یونیورسٹی کے پروفسیر جیویٹر ڈائز ہیں۔ ان کا تعلق مکینکل اینڈ ریسورسیس انجینئرنگ سے ہے۔امریکی بحریہ کی طرف سے انھیں ایک ایسا ڈرون بنانے کی ذمے داری سونپی گئی ہے جو فضا میں بلند ہونے کے علاوہ زیر آب تیرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ یعنی طیارے کے ساتھ ساتھ آب دوز کی طرح بھی کام کرسکے۔ پروفیسر اپنے دو شاگردوں کے ساتھ مل کر کئی برس سے اس منفرد ڈرون کی تیاری پر کام کررہے تھے اور اس میں کام یابی کے بعد انھوں نے اسے Naviator کا نام دیا ہے۔ Naviator کا پروٹوٹائپ بنانے کے بعد پروفیسر نے اسے بحریہ کے حکام کے سامنے پیش کیا۔ انھیں ڈرون کا یہ منصوبہ بہت پسند آیا۔ امریکی بحریہ کی طرف سے پروفیسر کو اس ڈرون پر مزید تحقیق اور اس کے بہتر ورڑن کی تیاری کے لیے 618000 ڈالر کی گرانٹ فراہم کردی گئی۔ پروفیسر کا کہناہے کہ بحریہ کے حکام نے ان سے کہا کہ انھوں نے اس قسم کی چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ Naviator پرندوں اور مچھلیوں کی خصوصیات کا مجموعہ معلوم ہوتا ہے۔پروفیسر کے بیان کے مطابق ان کی تخلیق فضا میں اور زیر آب رہتے ہوئے یکساں مہارت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ Naviator بحریہ کے لیے کئی طرح سود مند ثابت ہوگا۔ مثال کے طور پر سمندر میں لاپتا ہوجانے والے سپاہیوں اور پیراکوں کی موجودگی کا فضا سے جائزہ لینے کے ساتھ یہ انھیں زیرِ آب بھی تلاش کر سکتا ہے۔ اس کی مدد سے غرقاب بحری جہازوں کا جائزہ لینے کے علاوہ پلوں اور ڈرلنگ پلیٹ فارمز جیسی تعمیرات کے زیر آب حصوں کا معائنہ کیا جاسکے گا۔ Naviator کا سب سے اہم استعمال زمانہ جنگ میں ہوگا۔
دورانِ جنگ یہ چھوٹی سی آب دوز دشمن کے بحری جہازوں اور جنگی کشتیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے ان کے بارے میں معلومات امریکی بحریہ کو ارسال کرے گی۔ پروفیسر کے تیار کردہ ابتدائی ڈرون کی خامی یہ ہے کہ زیر آب اسے تار کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، کیوں کہ ریڈیائی سگنل پانی میں داخل نہیں ہوسکتے۔ بحریہ کی طرف سے گرانٹ اسی خامی کو دور کرنے کے لیے فراہم کی گئی ہے۔ پروفیسر جیویٹر اور ان کی ٹیم اب Naviator کو صوتی لہروں کے ذریعے کنٹرول کیے جانے کے قابل بنانے کی کوشش کریں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…