اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

فیس بک کے ساتھ وہ ہونے والاہے جس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا

datetime 16  دسمبر‬‮  2015 |
A smartphone user shows the Facebook application on his phone in the central Bosnian town of Zenica, in this photo illustration, May 2, 2013. Facebook Inc's mobile advertising revenue growth gained momentum in the first three months of the year as the social network sold more ads to users on smartphones and tablets, partially offsetting higher spending which weighed on profits. REUTERS/Dado Ruvic (BOSNIA AND HERZEGOVINA - Tags: SOCIETY SCIENCE TECHNOLOGY BUSINESS)

برسلز(نیوزڈیسک )یورپی ممالک میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیاسے دوررکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم وہ والدین کی اجازت سے فیس بک اوردیگر سوشل سائٹس استعمال کرسکیں گے،میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا اور یورپ میں بچوں کی آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ کے تحت تیرہ سال سے کم عمر بچوں کو آن لائن اضافی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اور فیس بک کی جانب سے اس عمر سے کم بچوں کو سائٹ استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔اس ہفتے کے آخر تک یورپی ممالک میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کا فیس بک سمیت کسی بھی قسم کی میسجنگ سروس کا والدین کی اجازت کے بغیر استعمال غیرقانونی قرار پا سکتا ہے۔مگر اب یورپی پارلیمنٹ کی سول آزادی اور داخلی امور کی کمیٹی نے سولہ سال سے کم عمر نوجوانوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے جس کی ویب سائٹس اور متعدد بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہرین مخالفت کررہے ہیں۔یورپی ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن میں آخری وقت میں ہونے والی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے ذاتی ڈیٹا کی پراسیسنگ اسی صورت میں قانونی ہوسکتی ہے جب انتظامیہ یا اس بچے کے سرپرست کی ذمہ داری رکھنے والے اس کی اجازت دیں۔آسان الفاظ میں آن لائن کمپنیاں اگر سولہ سال سے کم عمر افراد سے معاملہ کرنا چاہتی ہے انہیں پہلے والدین کی اجازت کو یقینی بنانا ہوگا۔ماہرین نے اپنے ایک کھلے خط میں کمیٹی کو کہا ہے کہ عمر کی حد میں تبدیلی سے نوجوانوں کے تعلیمی اور سماجی مواقعے متاثر ہوں گے جبکہ اس سے کچھ زیادہ تحفظ بھی نہیں ملے گا۔سوشل میڈیا سائٹس کے خیال میں اس پابندی سے اپنی سائٹس کی نگرانی کرنا مزید مشکل ہوجائے گا کیونکہ اب بھی تیرہ سال سے کم عمر متعدد بچے فیس بک اور دیگر سائٹس کا استعمال والدین کی مرضی کے بغیر کررہے ہیں جس کی روک تھام مشکل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…