ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

انسانی جسم میں موسم کا حساب رکھنے والا سسٹم در یافت

datetime 28  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) ہمارا جسم بظاہر کسی واضح تبدیلی کے لئے کس طرح گرمی میں گرم اور سردی میں سرد محسوس کرتا ہے یہ بات سائنس دانوں کو کافی عرصے سے پریشان کر رہی تھی لیکن اور اب سائنس دانوں نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے جسم میں موسم کا حساب رکھنے والا ’کیمیائی کیلینڈر‘ دریافت کر لیا ہے۔ یونیورسٹی آف مانچسٹر اور یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنس دانوں نے ایک سال کے مختلف اوقات میں بھیڑوں کے دماغ کا جائزہ لیا اس ٹیم کو جسم میں ہزاروں خلیوں پر مشتمل ایک ایسا مجموعہ ملا جو موسمِ سرما یا موسمِ گرما کی حالت میں ہوتا ہے۔ یہ سالانہ کیلنڈر اس بات کو کنٹرول کرتا ہے کہ جانور کب بچے پیدا کرتا ہے، کب ہجرت کرتا ہے، اور کب سردیوں میں لمبی نیند سوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دماغ میں پائے جانے والے پٹوئٹری غدود کے اندر 17 ہزار خلیوں پر مشتمل ’کیلنڈر خلیے‘ ایسے ہارمونز خارج کرتے ہیں جو تمام جسم کے افعال پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ خلیے کسی کمپیوٹر کے ’بائنری نظام‘ کی طرح کام کرتے ہیں، اور ایک وقت میں دو میں سے کسی ایک حالت میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ خلیے ’موسمِ سرما‘ یا ’موسمِ گرما‘ کے کیمیائی اجزا خارج کرتے ہیں۔ ان کیلنڈر خلیوں کا تناسب سال بھر کے دوران بدلتا رہتا ہے جس سے وقت کے گزرنے کا احساس ہوتا ہے۔
مانچسٹر یونیورسٹی کے تحقیق کار پروفیسر اینڈریو لوڈن کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ سردیوں کے وسط میں یا گرمیوں کے بیچوں بیچ یہ خلیے صرف ایک حالت یا صرف دوسری حالت میں پائے جاتے ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ جسم کو یہ کیسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہار یا خزاں کا موسم ہے، کیوں کہ اس دوران کچھ خلیے گرمیوں اور کچھ سردیوں کی حالت میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جسم میں ایک یومیہ گھڑی بھی ہوتی ہے جو 24 گھنٹوں کے وقت کا حساب رکھتی ہے۔ یہ دونوں گھڑیاں روشنی سے متاثر ہوتی ہیں۔ اگرچہ انسانوں میں بچے پیدا کرنے کا موسم نہیں ہوتا لیکن یہ سالانہ گھڑی اس پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…