اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ماہرین نے اعداد و شمار کے تجزیہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ہرگزرتے دن کے ساتھ بہتری کے باوجود بھی فضائی سفر تکلیف دہ تر ہوتاجارہا ہے۔ فضائی سفر کو تکلیف دہ بنانے والے امور میں فلائٹس کے التوا کا شکار ہونا، سامان کی گمشدگی اور گنجائش سے زیادہ ٹکٹس کی فروخت جیسے مسائل اس سفر سے خوشگواریت کے احساس کو ختم کررہے ہیں۔
اس مقصد کیلئے ماہرین نے امریکی ایئرلائنز سے سفری اعداد و شمار حاصل کئے تھے جس سے اس امر کی تصدیق ہوئی کہ آج کے امریکی مسافروں کے پاس فضائی سفر کے دوران جس قدر شکایتیں جمع ہوجاتی ہیں، اتنی کسی دور میں بھی جمع نہیں ہوئیں۔ آج کل مختلف وجوہات کی بنا پر فلائٹوں کے ملتوی ہونے کا جس قدر رجحان سامنے آرہا ہے، اس قدر کبھی نہیں رہا۔ فضائی مسافروں کی تعداد میں اضافے کے باعث سامان کی گمشدگی کے واقعات بھی زیادہ درج کروائے جارہے ہیں جبکہ فلائٹس کی مجموعی کارکردگی کے بارے میں بھی اب مسافر زیادہ شکایتیں درج کروائی ہیں۔ یہ تحقیق جو کہ کاروباری مقاصد کے تحت کی گئی تھی، ڈین ہیڈلے اور ان کی ٹیم نے کی تھی۔ ڈین ہیڈلے کے مطابق اعداد و شمار کے علاوہ دوران تحقیق ان کا سامنا جس قدر مسافروں سے بھی ہوا، وہ تمام کے تمام اس حقیقت سے پہلے ہی واقف ہیں کہ فضائی سفر ماضی کی نسبت زیادہ بدترین تجربے کا باعث ہوتا ہے اور ہماری تحقیق محض ان کے دعووں کو سچ ثابت کرے گی۔ ڈین ہیڈلے جو کہ مارکیٹنگ کے پروفیسر بھی ہیں، فضائی سفر میں خرابی کا باعث فلائٹس کی تعداد میں کمی کو بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں فلائٹس کی تعداد میں کمی واقع ہورہی ہے، جبکہ مسافروں کی تعداد جوں کی توں ہے۔ قبل ازیں کینیڈین ٹرانسپورٹیشن ایجنسی بھی ایسے ہی اعداد و شمار کا انکشاف کرچکی ہے۔2013-2014 کے دوران ایجنسی کو کینیڈا کی 8فلائٹ کمپنیز میں دستیاب ناقص سہولیات کے باعث 546 شکایات موصول ہوئی تھیں۔ اسے ایک برس قبل ہی موصول ہونے والی کل شکایات کی تعداد301 تھی۔ ان میں سب سے زیادہ شکایت کینیڈا کی سرکاری ایئرلائن ایئرکینیڈا کے بارے میں تھیں۔ یہاں بھی شکایت وہی تھیں جو کہ امریکہ میں دیکھنے کو ملیں یعنی کہ سامان کی گمشدگی، فلائٹس کیلئے مقررہ وقت سے دیر سے فلائٹس کی روانگی اور اضافی ٹکٹس کی فروخت۔ خاص امر یہ ہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے ایئرپورٹس سے روانہ ہونے والی غیر ملکی فضائی کمپنیز کے حوالے سے اکھٹا کردہ اعداد و شمار بھی زیادہ بہتر حقائق کی نشاندہی نہیں کرتے ہیں۔ گزشتہ برس غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے سے وصول پانے والی شکایات کی کل تعداد ساڑھے تین سے کے لگ بھگ تھی۔ خیال رہے کہ یہ تمام وہ شکایات ہیں جو کہ اپنی نوعیت میں شدت کی وجہ سے تحریری طور پر درج کروائی گئیں، ایسے تمام اختلافات جن پر مسافروں نے شکایات درج کروانے کی زحمت نہ کی، ان کی تعداد کے بارے میں تو اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ گزشتہ برس بروقت لینڈ کرنے والی فلائٹس کی تعداد 78فیصد تھی جبکہ اس برس یہ تعداد کم ہوکے76فیصد ہوچکی ہوتی ہے۔ سامان کی چوری کی شرح میں بھی تیرہ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ گنجائش سے زائد مسافروں کے بارے میں موصولہ شکایات کی تعداد میں بھی تین فیصد اضافہ ہوا ہے۔
بہترین ٹیکنا لوجی مگرفضائی سفر پھر بھی تکلیف دہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ گرفتار
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی



















































