جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

نیویارک شہر کی دیواروں میں جگہ جگہ نصب USB کے پیچھے چھپی دلچسپ کہانی سامنے آگئی

datetime 17  فروری‬‮  2015 |

نیویارک   کیا آپ کو معلوم ہے کہ نیویارک شہر میں سرکاری اور پرائیویٹ عمارتوں کی دیواروں میں اور پارکوں اور شاپنگ سنٹرز میں ستونوں اور بینچوں میں یو ایس بی ڈرائیوز گڑی نظر آتی ہیں اور یہ نظارہ شہر بھر میں جابجار آتا ہے اور یہ واقعی حقیقت ہے کہ آپ کو راہ چلتے کسی بھی عمارت کی دیوار سے باہر نکلتا ہوا یو ایس بی کنیکٹر نظر آ سکتا ہے اور اس کے ساتھ لیپ ٹاپ لگا کر ڈیٹا کی منتقلی بھی کی جا سکتی ہے۔ دراصل یہ عجیب و غریب کام ایک آرٹسٹ کے پراجیکٹ کا حصہ ہے جس نے شہر بھر میں ایک آف لائن بے نام نیٹ ورک تخلیق کیا ہے۔ جرمن آرٹسٹ ارام بارتھول نے نہ صرف خود شہر میں جگہ جگہ یو ایس بی ڈرائیوز دیواروں میں نصب کی ہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ اس پراجیکٹ میں حصہ لیں۔ بارتھول کا آئیڈیا اس قدر مقبول ہوا کہ اب بے شمار لوگ جگہ جگہ ڈرائیوز دیواروں میں گاڑھ چکے ہیں اور اسی بے نام نیٹ ورک کو فائلز اپ لوڈ اور ڈاﺅن لوڈ کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ آپ کسی بھی جگہ نصب یو ایس بی ڈرائیو کے ساتھ اپنے لیپ ٹاپ یا سمارٹ فون کو کنیکٹ کریں تو اس میں موجود طرح طرح کی فائلز آپ کو ملیں گی جو آتے جاتے لوگوں نے ان میں رکھی ہوتی ہیں اور اسی طرح آپ جو فائلز لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہیں تو کہیں بھی کسی بھی یو ایس بی پر کاپی کر سکتے ہیں۔ اِسے آپ اس وقت کے سوشل میڈیا سے تعبیر کرسکتے ہیں ۔خبر کا حوالہ



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…