منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

ثاقب چدھڑ اور مومنہ اقبال کا کیس نئے موڑ میں داخل، اہم انکشافات

datetime 8  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے جاری تنازع میں ایک بار پھر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ثاقب چدھڑ نے اپنے پہلے تفصیلی انٹرویو میں اداکارہ اور ان کی بہن رمشا اقبال کے حوالے سے متعدد دعوے اور الزامات عائد کیے ہیں۔ثاقب چدھڑ کے مطابق مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال کو اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا لے جانے اور وہاں اپنی سکیورٹی کمپنی میں ملازمت دینے میں انہوں نے کردار ادا کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں رمشا نے آسٹریلیا میں ان کے کاروباری پارٹنر کے خلاف مبینہ ہراسانی کا مقدمہ دائر کیا اور ایک ملین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا۔ان کے مطابق یہ معاملہ بعد میں مبینہ طور پر ایک لاکھ 65 ہزار ڈالر میں طے پایا، جو رمشا اقبال پاکستان لے کر آئیں۔

ثاقب چدھڑ نے الزام لگایا کہ بعد میں دونوں بہنوں کی جانب سے بھی ان کے خلاف اسی نوعیت کا طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ اداکارہ اس بات سے واقف تھیں کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں، اس کے باوجود مبینہ طور پر ان کی دوسری بیوی بننے پر رضامند تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں مومنہ اقبال کی 2018 میں ہونے والی شادی اور بعد ازاں طلاق کا علم نہیں تھا، تاہم بعد میں انہیں اس بارے میں معلومات مل گئیں۔ایم پی اے نے مزید دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال کے وکیل نے ان سے رابطہ کرکے 20 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطابق رقم ادا کرنے سے انکار پر مبینہ طور پر 9 کروڑ روپے میں معاملہ طے کرنے کی پیشکش کی گئی، جبکہ اداکارہ کی جانب سے 11 کروڑ روپے میں تصفیے کی خواہش ظاہر کی گئی۔

ثاقب چدھڑ نے اپنے مؤقف کی تائید میں مومنہ اقبال کے وکیل سے ملاقات سے متعلق مبینہ شواہد اور ایک صلح نامہ بھی پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔دوسری جانب یہ معاملہ اس وقت منظرعام پر آیا تھا جب مومنہ اقبال نے چند ماہ قبل انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایک رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ثاقب چدھڑ کا نام اس معاملے سے جوڑا گیا۔اداکارہ نے بعد ازاں معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے سامنے پیش کیا، جبکہ ثاقب چدھڑ نے بھی حکام کو اپنا مؤقف اور وضاحت فراہم کی۔ واضح رہے کہ فریقین کی جانب سے سامنے آنے والے یہ دعوے اور الزامات قانونی عمل کا حصہ ہیں اور ان کی حتمی حقیقت کا تعین متعلقہ حکام اور عدالت کے فیصلے سے ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…