جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر الارم سسٹم نہ ہونےکا انکشاف

datetime 27  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا تو کئی اہم خامیاں سامنے آگئیں۔

ذرائع کے مطابق بعض بڑے اسپتالوں میں فائر الارم سسٹم تک موجود نہیں۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کے عباسی شہید اسپتال میں اس وقت صرف 13 فائر ایکسٹنگوشرز دستیاب ہیں۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ عملے کو باقاعدگی سے فائر ڈرل یا آگ سے نمٹنے کی تربیت بھی نہیں دی گئی، جبکہ ہنگامی حالات میں انخلا کے لیے مخصوص راستہ بھی موجود نہیں۔عباسی شہید اسپتال کی ایمرجنسی میں روزانہ سیکڑوں مریض آتے ہیں، جبکہ او پی ڈی سے ایک ہزار سے زائد افراد استفادہ کرتے ہیں۔ اسپتال کے دو جنریٹرز میں سے ایک کو بیک اپ کے طور پر رکھا گیا ہے۔عباسی شہید اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے میڈیا کو بتایا کہ فائر سیفٹی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب جناح اسپتال کے مختلف وارڈز میں فائر ایکسٹنگوشرز تو موجود ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق ان میں سے متعدد قابلِ استعمال حالت میں نہیں۔

اسپتال میں فائر الارم کا باقاعدہ نظام بھی نصب نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق جناح اسپتال میں آخری فائر ڈرل 2017 میں منعقد ہوئی تھی۔ جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا کہ اسپتال میں فائر فائٹنگ ٹیم تشکیل دینے کی ضرورت ہے اور ہر وارڈ میں فائر ایکسٹنگوشر موجود ہے۔ ان کے مطابق عملے کی مزید تربیت کے لیے سندھ حکومت سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ادھر سول اسپتال میں صورتحال نسبتاً بہتر بتائی گئی ہے، جہاں مختلف وارڈز میں مجموعی طور پر 180 فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں۔ تاہم اسپتال ذرائع کے مطابق یہاں بھی فائر سیفٹی کے تمام انتظامات کو مکمل طور پر مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…