ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

لاہور: 2 پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے دہشت گرد باپ بیٹا مبینہ مقابلے میں ہلاک

datetime 15  اگست‬‮  2026 |

لاہور (این این آئی) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقوں بادامی باغ اور نواں کوٹ میں تین پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے دہشت گرد باپ بیٹا مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے

جبکہ تیسرے فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے، دوسری جانب پولیس نے اہلکاروں کی شہادت کے دو الگ الگ مقدمات بھی دہشت گردی،قتل،اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کرلیے گئے ۔پولیس حکام کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کی شناخت ریحان بٹ اور فیاض بٹ کے نام سے ہوئی ہے۔ دہشت گرد ریحان بٹ اور فیاض بٹ نے بادامی باغ اور نواں کوٹ میں فائرنگ کرکے 3اہلکاروں کو شہید جبکہ دیگر کو زخمی کیا تھا۔دہشت گرد فائرنگ کے بعد ایک سرکاری گاڑی لیکر فرار ہو گئے تھے۔سی سی ڈی ماڈل ٹائون پولیس، لاہور پولیس، شیخوپورہ پولیس سمیت دیگر ٹیمیں دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے تعاقب میں تھیں۔ شیخوپورہ راوی ریان کے قریب دہشت گرد گاڑی چھوڑ کر ایک گھر میں داخل ہوگئے اور گھر والوں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا لیا۔دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن کیا گیا تو دہشت گردوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔دو طرفہ فائرنگ کے دوران دو دہشت گرد مارے گئے، جن کی شناخت ریحان بٹ اور فیاض بٹ کے نام سے ہوئی۔جبکہ تیسرے فرار دہشت گرد کی گرفتاری کے لیے پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے۔

دوسری جانب بادامی باغ میں سب انسپکٹر عدیل اور ہیڈ کانسٹیبل اسد کو فائرنگ سے شہید کرنے کا معاملہ، تھانہ بادامی باغ میں تین ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔مقدمہ تھانہ لاری اڈا کے انسپکٹر نسیم خان کی مدعیت میں درج کیا گیا، مقدمہ انسداد دہشت گردی، قتل، اقدام قتل سمیت آٹھ دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ چند دہشت گرد فیاض بٹ کے مکان پیشے خان چوک بادامی باغ میں دہشت گردی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔مقدمہ متن کے مطابق سب انسپکٹر عدیل، عاشق اور ہیڈ کانسٹیبل اسد علی ملزمان کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو فیاض بٹ اور اس کے دو ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔مقدمہ متن کے مطابق فیاض بٹ نے زمین پر گرے ہوئے دونوں پولیس اہلکاروں کے اوپر چڑھ کر اپنے پستول سے فائرنگ کی۔ملزمان کی فائرنگ سے راہ گیر زاہد امین بھی زخمی ہوگیا، ملزمان دیگر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔جبکہ نوانکوٹ پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کا بھی الگ سے مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔

پولیس نے دہشت گردی،قتل،اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ ایس ایچ او نواں کوٹ محسن شہزاد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے ۔ مقدمہ متن کے مطابق سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں پر تین ملزمان نے فائرنگ کی،ملزمان کلاشنکوف سے مسلح تھے، ملزمان نے فائرنگ کرکے ایک راہگیر کو بھی زخمی کیا۔ملزمان نے فرار ہوتے ہوئے ایک سکیورٹی گارڈ سے اسلحہ چھینا۔ ملزمان ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑی چھین کر فرار ہوئے۔ ملزمان فائرنگ کرتے ایک اور سرکاری گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…