جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بچوں کیساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے ہولناک اعداد و شمار جاری، پنجاب سرفہرست

datetime 6  اگست‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل نے جنوری سے جون 2026 کے دوران بچوں کے خلاف جرائم سے متعلق اپنی ششماہی رپورٹ جاری کر دی

جو مختلف قومی اور علاقائی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ سے حاصل کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔اس رپورٹ میں چاروں صوبوں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے واقعات شامل کیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے مجموعی طور پر 1914 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 49 ایسے نومولود بھی شامل تھے جنہیں سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا تھا۔جنوری تا جون 2026 کے دوران واقعات پر مبنی اس رپورٹ میں 1015 بچوں کے جنسی استحصال، 558 اغواء ، 101 گمشدگی اور 35 کم عمر شادیوں کے کیسز درج کیے گئے ہیں، جبکہ 98 ایسے واقعات بھی ریکارڈ ہوئے جن میں جنسی زیادتی کے بعد پورنوگرافی کی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق مجموعی متاثرین میں 58 فیصد لڑکیاں اور 42 فیصد لڑکے تھے۔ عمر کے لحاظ سے 11 سے 15 سال کے 598 بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ 16 سے 18 سال کے 356 بچے، 6 سے 10 سال کے 329 اور 5 سال تک کے 95 بچے متاثرین میں شامل تھے۔ 487 کیسز میں متاثرہ بچوں کی عمر کا ذکر نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 43 فیصد کیسز میں ملزمان متاثرہ بچوں کے واقف کار تھے جبکہ 34 فیصد میں ملزمان اجنبی تھے۔ 13 فیصد کیسز میں ملزم کی حیثیت کا ذکر نہیں تھا۔تقریباً 45 فیصد واقعات متاثرہ بچوں کے اپنے گھروں میں، 18 فیصد ملزمان کے گھروں میں اور 3 فیصد کھلے میدانوں میں پیش آئے، جبکہ 21 فیصد کیسز میں وقوعہ کی جگہ بیان نہیں کی گئی۔ساحل کی رپورٹ کے مطابق 57 فیصد کیسز شہری اور 43 فیصد دیہی علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔صوبہ پنجاب سے 80 فیصد، سندھ سے 15 فیصد جبکہ خیبرپختونخواہ ، بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے مجموعی طور پر 5 فیصد کیسز رپورٹ کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی کیسز میں سے 89 فیصد پولیس میں درج ہوئے۔ 11 فیصد کیسز میں اندراج کی صورتحال کا ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ 7 کیسز پولیس میں درج نہیں ہوئے اور ایک کیس میں پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…