جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

بچوں کیساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے ہولناک اعداد و شمار جاری، پنجاب سرفہرست

datetime 6  اگست‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل نے جنوری سے جون 2026 کے دوران بچوں کے خلاف جرائم سے متعلق اپنی ششماہی رپورٹ جاری کر دی

جو مختلف قومی اور علاقائی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ سے حاصل کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔اس رپورٹ میں چاروں صوبوں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے واقعات شامل کیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے مجموعی طور پر 1914 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 49 ایسے نومولود بھی شامل تھے جنہیں سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا تھا۔جنوری تا جون 2026 کے دوران واقعات پر مبنی اس رپورٹ میں 1015 بچوں کے جنسی استحصال، 558 اغواء ، 101 گمشدگی اور 35 کم عمر شادیوں کے کیسز درج کیے گئے ہیں، جبکہ 98 ایسے واقعات بھی ریکارڈ ہوئے جن میں جنسی زیادتی کے بعد پورنوگرافی کی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق مجموعی متاثرین میں 58 فیصد لڑکیاں اور 42 فیصد لڑکے تھے۔ عمر کے لحاظ سے 11 سے 15 سال کے 598 بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ 16 سے 18 سال کے 356 بچے، 6 سے 10 سال کے 329 اور 5 سال تک کے 95 بچے متاثرین میں شامل تھے۔ 487 کیسز میں متاثرہ بچوں کی عمر کا ذکر نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 43 فیصد کیسز میں ملزمان متاثرہ بچوں کے واقف کار تھے جبکہ 34 فیصد میں ملزمان اجنبی تھے۔ 13 فیصد کیسز میں ملزم کی حیثیت کا ذکر نہیں تھا۔تقریباً 45 فیصد واقعات متاثرہ بچوں کے اپنے گھروں میں، 18 فیصد ملزمان کے گھروں میں اور 3 فیصد کھلے میدانوں میں پیش آئے، جبکہ 21 فیصد کیسز میں وقوعہ کی جگہ بیان نہیں کی گئی۔ساحل کی رپورٹ کے مطابق 57 فیصد کیسز شہری اور 43 فیصد دیہی علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔صوبہ پنجاب سے 80 فیصد، سندھ سے 15 فیصد جبکہ خیبرپختونخواہ ، بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے مجموعی طور پر 5 فیصد کیسز رپورٹ کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی کیسز میں سے 89 فیصد پولیس میں درج ہوئے۔ 11 فیصد کیسز میں اندراج کی صورتحال کا ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ 7 کیسز پولیس میں درج نہیں ہوئے اور ایک کیس میں پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…