بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سندھ میں خناق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، 1 درجن سے زائد بچے جاں بحق

datetime 25  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)کراچی میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد اب خناق (ڈفتھیریا) کے پھیلاؤ نے بھی محکمہ صحت کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔

سندھ انفیکشز ڈیزیز اسپتال نیپا میں رواں سال اس بیماری کے باعث 13 بچوں کی اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔رپورٹس کے مطابق سال 2026 کے دوران مذکورہ اسپتال میں خناق کے 30 مریض سامنے آئے، جن میں سے 13 بچے جانبر نہ ہو سکے۔ ملک بھر کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون تک خناق کے 308 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ تعداد سندھ سے سامنے آئی۔اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں اب تک 113 مشتبہ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں 87، بلوچستان میں 64، پنجاب میں 35، اسلام آباد میں 7 اور گلگت بلتستان میں 2 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خناق ایک خطرناک اور متعدی بیماری ہے، جو ایک مریض سے دوسرے فرد تک آسانی سے منتقل ہو سکتی ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں گلے کی سوجن، گلے میں سرمئی رنگ کی جھلی بننا، تیز بخار، شدید گلے کا درد اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان علامات کو معمولی سمجھنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ کم عمر بچے اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، تاہم بروقت حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے اس سے مؤثر بچاؤ ممکن ہے۔ بچوں کو مقررہ شیڈول کے مطابق ویکسین لگوانے سے نہ صرف خناق بلکہ دیگر متعدد جان لیوا بیماریوں سے بھی تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت بچوں کو ٹی بی، پولیو، خناق، تشنج، کالی کھانسی، ہیپاٹائٹس بی، ہیموفیلس انفلوئنزا، نمونیا، خسرہ، روبیلا اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق شیر خوار اور کم عمر بچوں کا مدافعتی نظام مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا، اس لیے بروقت ویکسینیشن ان کی صحت اور زندگی کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ماہرین صحت نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کروائیں، کیونکہ ویکسین نہ صرف بچوں کو خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ معاشرے میں متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق بروقت تشخیص، مناسب علاج اور مکمل ویکسینیشن کے ذریعے خناق سمیت کئی مہلک بیماریوں سے قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…