اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

پنجاب میں مون سون کا سلسلہ برقرار، مزید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

datetime 22  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)پنجاب میں مون سون کا دوسرا اسپیل بدستور اثر انداز ہے اور محکمہ موسمیات نے آج بھی لاہور سمیت صوبے کے بیشتر علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

موسم کے پیش نظر شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں دن بھر بادلوں اور دھوپ کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ دوپہر کے بعد مزید بارش ہونے کا امکان ہے۔ شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری تک رہنے کی توقع ہے۔بارشوں کے خدشے کے پیش نظر پی ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ واسا لاہور نے بھی نکاسی آب کے تمام انتظامات مکمل کرتے ہوئے عملے کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک رہنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کے مطابق بارش شروع ہوتے ہی افسران اور فیلڈ اسٹاف مختلف مقامات پر موجود ہوں گے تاکہ پانی کی فوری نکاسی یقینی بنائی جا سکے۔پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مسلسل بارشوں کی وجہ سے صوبے کے مختلف دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ مون سون کا موجودہ سلسلہ 24 جولائی تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ادارے کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے، جہاں پانی کا بہاؤ بالترتیب 3 لاکھ 17 ہزار اور 2 لاکھ 95 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دریائے چناب میں مرالہ اور قادرآباد کے مقامات پر نچلے درجے جبکہ خانکی کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ مرالہ پر ایک لاکھ 28 ہزار، خانکی پر ایک لاکھ 52 ہزار اور قادرآباد پر ایک لاکھ 57 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے، جبکہ دریائے راوی، جہلم اور ستلج میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق بتایا گیا ہے۔

نالہ بئیں میں بھی نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے خبردار کیا ہے کہ بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے، لہٰذا دریا کنارے یا نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد احتیاطاً محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا ہے اور فلڈ ریلیف کیمپوں میں بنیادی سہولیات، خوراک اور ادویات کی فراہمی کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دریاؤں، نہروں اور برساتی ندی نالوں کے قریب جانے سے اجتناب کریں۔دوسری جانب ریسکیو حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب بھر میں بارش اور آندھی کے باعث پیش آنے والے مختلف حادثات میں 8 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 37 افراد زخمی ہوئے۔گجرانوالہ میں چھتیں اور دیواریں گرنے کے متعدد واقعات میں 3 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں ایک شخص جان سے گیا اور 2 افراد زخمی ہوئے۔ کامونکی انڈر پاس میں جمع بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک بچے کی بھی موت واقع ہوئی۔

پاکپتن میں کچے مکان کی چھت گرنے سے 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ ساہیوال کے علاقے کوٹ خادم علی شاہ میں ایک خاتون چھت گرنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بی۔ ہڑپہ میں دکان کی چھت گرنے سے 3 افراد زخمی ہوئے۔لاہور کے گلشن راوی کے علاقے میں مکان کی چھت گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے، جبکہ منڈی بہاؤالدین کے مختلف دیہات میں دیواریں اور چھتیں گرنے کے نتیجے میں 8 افراد زخمی ہوئے۔ بہاولنگر میں ایک شیڈ گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا، سیالکوٹ میں بھی چھت گرنے کے واقعے میں 3 افراد زخمی ہوئے، جبکہ مری اور کہوٹہ میں لینڈ سلائیڈنگ اور درخت گرنے کے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…