جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سوات سانحہ: پہاڑوں اور پانی سے محبت کرنے والی بشری کا 21 دن بعد بھی سراغ نہ مل سکا، ضلعی انتظامیہ جواب دینے سے گریزاں

datetime 21  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) کالام کی سیف اللہ جھیل میں پیش آنے والے المناک حادثے کو 21 روز گزر چکے ہیں، تاہم ضلعی انتظامیہ اور امدادی ادارے اب تک لاپتہ خاتون بشری ہندل کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

طویل سرچ آپریشن کے باوجود کوئی اہم پیش رفت سامنے نہ آنے پر اہلخانہ شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔متوفی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل کے بھتیجے ذیشان ہندل نے بتایا کہ ابتدا میں خاندان کو امید تھی کہ بشری کسی طرح محفوظ بچ گئی ہوں گی اور انہیں جلد تلاش کر لیا جائے گا، مگر تین ہفتے گزرنے کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہیں ملا، جس کے باعث امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔ذیشان ہندل کے مطابق حادثے کے وقت وہ بھی اپنے اہلخانہ کے ساتھ کالام میں موجود تھے۔ پاکستان نیوی کی جانب سے اطلاع ملنے پر وہ فوری طور پر کالام اسپتال پہنچے، جہاں خاندان کے چھ افراد کی میتیں موجود تھیں، جن میں ان کے چچا کی بیٹی کے دو کم سن بچے بھی شامل تھے۔انہوں نے بتایا کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل نے کشتی حادثے کے دوران اپنے بچوں کو بچانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ خود بھی پانی کی نذر ہو گئے۔ ذیشان کے مطابق اگرچہ عامر ہندل پوری زندگی بحریہ سے وابستہ رہے اور ایک ماہر تیراک تھے، تاہم تیز بہاؤ کے باعث وہ بھی جان نہ بچا سکے۔حادثے میں عامر ہندل، ان کی شادی شدہ بیٹی فروا، ان کے دو بچے، راویل ہندل اور عبداللہ جاں بحق ہو گئے، جبکہ امریکہ سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آنے والی ان کی تیسری بیٹی بشری ہندل اب تک لاپتہ ہیں۔ذیشان ہندل کا کہنا تھا کہ سوات کا یہ تفریحی سفر بھی بشری کی خواہش پر ترتیب دیا گیا تھا، کیونکہ انہیں پہاڑوں اور جھیلوں سے خصوصی لگاؤ تھا۔ امریکہ سے روانگی سے قبل انہوں نے اہلخانہ سے خواہش ظاہر کی تھی کہ اس بار سوات کی سیر ضرور کی جائے۔

دوسری جانب ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے اور سیف اللہ جھیل سے دریائے ایشومیں بحرین تک تقریباً 80 کلومیٹر کے علاقے میں تلاش کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق کشتی کا انجن بروقت اسٹارٹ نہ ہو سکا، جس کے باعث کشتی تیز پانی کے بہاؤ میں بہتی ہوئی اس مقام تک جا پہنچی جہاں جھیل کا پانی دریائے ایشو میں شامل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقام پر پانی کا بہاؤ انتہائی تیز تھا اور کشتی چند لمحوں میں الٹ گئی۔مقامی صحافیوں کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنے پر صرف یہی بتایا جاتا ہے کہ سرچ آپریشن بدستور جاری ہے، تاہم اب تک لاپتہ خاتون سے متعلق کوئی نئی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…