اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

سوات سانحہ: پہاڑوں اور پانی سے محبت کرنے والی بشری کا 21 دن بعد بھی سراغ نہ مل سکا، ضلعی انتظامیہ جواب دینے سے گریزاں

datetime 21  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) کالام کی سیف اللہ جھیل میں پیش آنے والے المناک حادثے کو 21 روز گزر چکے ہیں، تاہم ضلعی انتظامیہ اور امدادی ادارے اب تک لاپتہ خاتون بشری ہندل کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

طویل سرچ آپریشن کے باوجود کوئی اہم پیش رفت سامنے نہ آنے پر اہلخانہ شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔متوفی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل کے بھتیجے ذیشان ہندل نے بتایا کہ ابتدا میں خاندان کو امید تھی کہ بشری کسی طرح محفوظ بچ گئی ہوں گی اور انہیں جلد تلاش کر لیا جائے گا، مگر تین ہفتے گزرنے کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہیں ملا، جس کے باعث امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔ذیشان ہندل کے مطابق حادثے کے وقت وہ بھی اپنے اہلخانہ کے ساتھ کالام میں موجود تھے۔ پاکستان نیوی کی جانب سے اطلاع ملنے پر وہ فوری طور پر کالام اسپتال پہنچے، جہاں خاندان کے چھ افراد کی میتیں موجود تھیں، جن میں ان کے چچا کی بیٹی کے دو کم سن بچے بھی شامل تھے۔انہوں نے بتایا کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل نے کشتی حادثے کے دوران اپنے بچوں کو بچانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ خود بھی پانی کی نذر ہو گئے۔ ذیشان کے مطابق اگرچہ عامر ہندل پوری زندگی بحریہ سے وابستہ رہے اور ایک ماہر تیراک تھے، تاہم تیز بہاؤ کے باعث وہ بھی جان نہ بچا سکے۔حادثے میں عامر ہندل، ان کی شادی شدہ بیٹی فروا، ان کے دو بچے، راویل ہندل اور عبداللہ جاں بحق ہو گئے، جبکہ امریکہ سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آنے والی ان کی تیسری بیٹی بشری ہندل اب تک لاپتہ ہیں۔ذیشان ہندل کا کہنا تھا کہ سوات کا یہ تفریحی سفر بھی بشری کی خواہش پر ترتیب دیا گیا تھا، کیونکہ انہیں پہاڑوں اور جھیلوں سے خصوصی لگاؤ تھا۔ امریکہ سے روانگی سے قبل انہوں نے اہلخانہ سے خواہش ظاہر کی تھی کہ اس بار سوات کی سیر ضرور کی جائے۔

دوسری جانب ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے اور سیف اللہ جھیل سے دریائے ایشومیں بحرین تک تقریباً 80 کلومیٹر کے علاقے میں تلاش کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق کشتی کا انجن بروقت اسٹارٹ نہ ہو سکا، جس کے باعث کشتی تیز پانی کے بہاؤ میں بہتی ہوئی اس مقام تک جا پہنچی جہاں جھیل کا پانی دریائے ایشو میں شامل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقام پر پانی کا بہاؤ انتہائی تیز تھا اور کشتی چند لمحوں میں الٹ گئی۔مقامی صحافیوں کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنے پر صرف یہی بتایا جاتا ہے کہ سرچ آپریشن بدستور جاری ہے، تاہم اب تک لاپتہ خاتون سے متعلق کوئی نئی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…