اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) لاہور ہائی کورٹ نے جہیز میں ملنے والی گاڑی کی فروخت سے متعلق درج مقدمے میں شوہر کی عبوری ضمانت دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔
یہ فیصلہ جسٹس طارق محمود باجوہ نے جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف امانت میں خیانت اور فراڈ کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شوہر نے امانت کے طور پر اس کے پاس موجود گاڑی فروخت کر دی۔عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق مذکورہ گاڑی خاتون کے نام رجسٹرڈ تھی، جبکہ شوہر صرف اسے استعمال کر رہا تھا۔ درخواست گزار کے مطابق دونوں کے درمیان خاندانی تنازعات کے باعث یہ مقدمہ درج کرایا گیا۔فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ خاتون نے فیملی کورٹ میں دائر اپنے دعوے میں اسی گاڑی کو جہیز کے سامان کا حصہ قرار دیا تھا۔ تاہم ایف آئی آر میں زیر سماعت خاندانی مقدمے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق گاڑی اب بھی خاتون کی ملکیت ہے اور اس کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ مزید یہ کہ مقدمہ بظاہر میاں بیوی کے باہمی اختلافات کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار پہلے ہی تفتیش میں شامل ہو چکا ہے اور اب تک ایسا کوئی مواد سامنے نہیں آیا جس سے بدنیتی یا کسی مجرمانہ ارادے کا واضح ثبوت ملتا ہو، لہٰذا اس کی عبوری ضمانت برقرار رکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔



















































