لاہور (این این آئی)پنجاب حکومت نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والے غیر قانونی صنعتی یونٹس کے خلاف کریک ڈائون مزید تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔
اس سلسلے میں انڈسٹریل زونز اور رہائشی علاقوں میں قائم غیر قانونی یونٹس کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیوں کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔محکمہ تحفظ ماحول (ای پی اے)کی ٹیموں کو یونین کونسل کی سطح تک گرینڈ آپریشن کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور سموگ کا باعث بننے والی تمام سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
غیر قانونی یونٹس کو فوری طور پر مسمار کرنے اور مالکان کے خلاف مقدمات درج کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔مریم اورنگزیب نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں، جبکہ غیر قانونی یونٹس کے مالکان رضاکارانہ طور پر اپنی سرگرمیاں بند کر دیں، بصورت دیگر ان کے یونٹس مسمار کر دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی غیر قانونی پلانٹ یا سموگ پھیلانے والے یونٹ کو رعایت نہیں دی جائے گی اور سموگ کا خاتمہ وزیراعلی پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے بلاامتیاز کریک ڈان جاری رکھا جائے گا۔دوسری جانب لاہور میں غیر قانونی فیٹ ملٹنگ یونٹس اور جانوروں کے اعضا جلانے والی فیکٹریوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
محکمہ ماحولیات کے مطابق گزشتہ 15روز کے دوران 64سے زائد غیر قانونی یونٹس کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ گزشتہ دو سال میں مجموعی طور پر 374 غیر قانونی یونٹس بند کیے جا چکے ہیں۔حکام کے مطابق کارروائیاں دھواں، بدبو اور فضائی آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کے خلاف کی جا رہی ہیں۔ بکر منڈی کے علاقے میں غیر قانونی چربی پگھلانے اور کچرا جلانے والے یونٹس کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا، جہاں شدید فضائی آلودگی اور بدبو کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔



















































