اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایک غیر معمولی صورتحال اس وقت سامنے آئی
جب پولیس نے ایک ایسے مقدمے میں دوبارہ چالان پیش کر دیا جس میں عمران خان پہلے ہی بری ہو چکے تھے۔تفصیلات کے مطابق پولیس کی جانب سے اس کیس میں نیا چالان جمع کرایا گیا، تاہم عدالت نے سابقہ فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے قابلِ سماعت نہ سمجھتے ہوئے داخل دفتر کر دیا۔اس کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خان نے کی، جبکہ عمران خان کی جانب سے وکلا سردار مصروف خان اور زاہد بشیر ڈار عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت وکیل سردار مصروف خان نے مؤقف اپنایا کہ یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے کیونکہ کسی ملزم کی بریت کے بعد اسی مقدمے میں دوبارہ چالان پیش کرنا عدالتی روایات کے خلاف ہے۔عدالت نے اس موقع پر پہلے جاری ہونے والے فیصلے کی نقول طلب کیں، جس کے بعد وکلا نے بریت کا حکم نامہ پیش کیا۔ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے نئے چالان کو مسترد کرتے ہوئے کیس کو داخل دفتر کر دیا۔یاد رہے کہ یہ مقدمہ آزادی مارچ کے تناظر میں تھانہ ترنول میں درج کیا گیا تھا۔



















































