دادو(این این آئی)میہڑ کی امِ رباب چانڈیو کے والد تمندار مختار علی چانڈیو، دادا رئیس کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کے تہرے قتل کیس میں دادو کی ماڈل کرمنل کورٹ نے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق دادو کی ماڈل کورٹ نے گزشتہ سماعت میں گواہان کے بیانات اور دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا تاہم پیر کو ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے پیپلز پارٹی کے دو ایم پی ایز سمیت تمام 8 نامزد ملزمان کو بری کر دیا۔
عدالت کے مطابق سردار احمد خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو سمیت کسی بھی ملزم پر جرم ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے تمام ملزمان کو باعزت بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔یاد رہے کہ یہ مقدمہ میہڑ کے تہرے قتل کیس سے متعلق تھا جو تقریباً 8سال 3 ماہ تک عدالت میں زیرِ سماعت رہا۔ کیس کے دوران مجموعی طور پر 392 پیشیاں ہوئیں۔ فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج/ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ دادو کے جج حسین کلوڑ نے ایک ماہ قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔فیصلہ سنانے سے قبل سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ ضلع بھر کے 30 تھانوں کے ایس ایچ اوز، 6 ڈی ایس پیز اور 589 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ عدالت کے اطراف دو کلومیٹر تک ناکہ بندی کر کے سڑکیں سیل کی گئیں۔فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے مدعی ام رباب چانڈیو نے کہا کہ ان کے حوصلے بلند ہیں،ان کے وکیل صلاح الدین پنہور نے اعلان کیا کہ ماڈل کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔ام رباب چانڈیو نے تہرے قتل کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے ام رباب چانڈیو نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ریاست کی عدالت کی جانب سے آیا ہے، تاہم عوام حقیقت سے آگاہ ہو چکی ہے اور ہم عوام کی عدالت میں یہ کیس پہلے ہی جیت چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اس جدوجہد میں سرخرو ہو چکی ہوں اور انصاف کے حصول کے لیے میرا عزم برقرار ہے، کسی ایک ملزم کو سزا نہ ہونا عجیب ہے، وہ ملزمان جو 3 سالوں تک روپوش رہے ان کو بھی سزا نہیں ہوئی، یہ کیس میرے گھر تک محدود نہیں تھا، یہ کیس جاگیرداری نظام کے خلاف مظلوم عوام کی جدوجہد پر مشتمل تھا، ہمارے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ام رباب نے کہا کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اس لیے میں اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کروں گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میرے حوصلے پہلے بھی بلند تھے اور آج بھی بلند ہیں۔
دوسری جانب تہرے قتل کیس کے وکیل صلاح الدین پنہور نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ سرداری نظام کے خلاف 3 لوگوں کا دن دہہاڑے قتل ہوا، کیس میں 3 گواہ اور میڈیکل شواہد موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ اتنے شواہد پر ہماری نظر میں سزا ہوسکتی تھی، کیس کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔خیال رہے کہ 17 جنوری 2018 کو امِ رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کو قتل کیا گیا تھا۔مقدمہ تھانہ میہڑ میں رکنِ سندھ اسمبلی سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو سمیت 7 ملزمان کے خلاف درج ہے۔امِ رباب اس وقت شہہ سرخیوں میں آئیں جب وہ تہرے قتل کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر ننگے پائوں دادو کی مقامی عدالت آئی تھیں۔ واقعے پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کو 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔



















































