بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی، ملیر ندی میں سونے کے ذرات کی موجودگی کی افواہ، بڑی تعداد میں لوگ تلاش کے لیے پہنچ گئے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)کراچی کی ملیر ندی میں کورنگی کاز وے کے قریب سونے کے ذرات کی تلاش کے لیے بڑی تعداد میں لوگ کھدائی کا سامان لیکر پہنچ گئے۔رپورٹ کے مطابق کورنگی کاز وے کے قریب عوام کی بڑی تعداد کھدائی کا سامان لیکر پہنچ گئی جہاں انہوں نے گڑھے کھود کر سونے کے ذرات کی تلاش شروع کر رکھی ہے۔کورنگی کاز وے کے قریب خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد کو مختلف مقامات پر سونے کے ذرات تلاش کرتے دیکھا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

لوگ موٹرسائیکلوں رکشہ ٹیکسیوں اور دیگر طریقے سے یہاں پہنچنے والے شہریوں نے کاز وے سے متصل زمین پر مختلف جگہوں پر چھوٹے بڑے گڑھے کر دیے۔گڑھوں سے نکلنے والی مٹی کو پہلے جالی پر چھانا جا رہا ہے، جالی پر چھانے جانے والی مٹی کو پانی کے اندر ڈبویا جارہا ہے، شہری کا کہنا ہے کہ مٹی سے سونے کے ذرات پیتل لوہا اور دیگر اشیا نکل رہی ہیں۔علاقے میں موجود شہری کا کہنا تھا کہ تین دن سے فیملی سمیت یہاں پر ہوں، قسمت آزما رہے ہیں کس کا سونا نکلے اور کس کا پیتل پتہ نہیں، شہریوں کی بڑی تعداد کی جانب سے قسمت ازمائی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…