بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ڈرائیورنگ لائسنس نہ ہونے پر فوری مقدمہ درج ،عدالت نے بڑا حکم جا ری کر دیا

datetime 9  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈرائیورنگ لائسنس نہ ہونے پر شہریوں کے خلاف فوری مقدمہ درج نہ کرنے کا حکم دیا اور شہری کو لائسنس نہ دکھانے پر پہلے جرمانہ کرنے کی ہدایت کردی۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے بغیر لائسنس گاڑی چلانے والوں کی گرفتاری اور گاڑیاں ضبط کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد حمزہ ہمایوں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ بات تو واضح ہے کہ غفلت اور لاپرواہی سے گاڑی چلانے پر مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ اگر کوئی بغیر لائسنس گاڑی چلائے تو ایکسیڈنٹ کی صورت میں دفع 302 لگ جاتی ہے اور اگر لائسنس پاس نہیں تو اس کی فوٹی کاپی دکھا دیں۔

سی ٹی او اسلام آباد نے کہا کہ ابھی تک ٹریفک پولیس نے لائسنس نہ رکھنے والے کسی بھی شہری کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لائسنس نہ رکھنے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے تو شہری کے لیے ایک بدنما داغ ہوگا کیوں کہ مقدمہ اندراج کے بعد وہ کریمنل ہسٹری میں آجاتا ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ پاکستان بنے ہوئے 75 سال سے زائد ہوگئے ہیں اور ابھی تک یہ نہیں پتا کہ لائسنس رکھنا ہے۔سردار سرفراز ڈوگر نے ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے پر مقدمہ کے اندراج سے ٹریفک پولیس کو روکتے ہوئے کہا کہ انسان سے غلطیاں ہوجاتی ہیں لیکن قانون میں غلطی کی گنجائش نہیں ہے، کسی بھی شہری کے خلاف فوری مقدمہ درج نہ کیا جائے۔عدالت نے شہری کو لائسنس نہ دکھانے پر جرمانہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…