منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

قومی اسمبلی،خاتون کے کپڑے پھاڑنے، ہائی جیکر سے تعلقات پر سزائے موت ختم کرنے کی ترمیم منظور

datetime 7  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی نے فوجداری قوانین میں 2 ترامیم کی منظوری دے دی جن کے تحت خاتون کے کپڑے پھاڑنے اور ہائی جیکر سے ملاقات یا تعلقات پر سزائے موت ختم کردی گئی ہے۔اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون اعظم تارڑ نے فوجداری قوانین ترمیمی بل 2025 ایوان میں پیش کیا۔وزیر قانون اعظم تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ بل کے تحت فوجداری قوانین میں دو ترامیم لائی جا رہی ہیں، پہلی ترمیم شق 354 اے سے متعلق ہے، یہ شق خاتون کے کپڑے پھاڑنے کی سزا کا احاطہ کرتی ہے، سابق صدر ضیاالحق کے دور میں خاتون کے کپڑے پھاڑنے پر سزائے موت متعارف کرائی گئی تھی، تاہم اس شق کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ 354 کو 354 اے میں بدلنے پر تھانوں میں رشوت چلتی ہے، ترمیم کے تحت اس جرم پر سزائے موت ختم کر کے سزا کم کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دوسری ترمیم سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں لائی گئی شق 402 سی سے متعلق ہے، یہ شق ہائی جیکنگ کے ملزم کی کسی دوسرے شخص سے ملاقات یا تعلقات پر اس شخص کو بھی سزائے موت دینے کی سزا تجویز کرتی ہے، ترمیمی بل کے تحت ہائی جیکنگ کے ملزم سے ملاقات یا تعلقات پر سزائے موت ختم کی جا رہی ہے۔

ترمیمی بل پر جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے مخالفت کی جس پر ایوان میں رائے شماری کرائی گئی، رائے شماری پر ایوان نے کثرت رائے سے بل منظور کر لیا۔قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 میں پیش کیا، جسے مزید کارروائی کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔طلال چوہدری نے بتایا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو شہریت کا حق واپس دلانے کی قانون سازی کر رہے ہیں، کسی دوسرے ملک کی شہریت لینے پر اب پاکستان کی شہریت نہیں چھوڑنی پڑے گی۔ایوان میں مخبر کے تحفظ کے لیے نگران کمیشن کا بل 2025، پاکستان کوسٹ گارڈ ترمیمی بل 2025، موٹر وہیکلز انڈسٹری ڈیولپمنٹ بل 2025، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2025 اور سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 ترمیمی بل 2025بھی پیش کیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…