منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

موٹی لڑکیوں کے رشتے کیوں نہیں ملتے؟ مسز خان کے سخت الفاظ

datetime 4  اگست‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)رشتہ کروانے والے ادارے کی سربراہ اور خود کو رشتہ و مشاورت کی ماہر کہلانے والی مسز خان ایک بار پھر اپنے متنازع بیانات کے باعث خبروں میں ہیں۔مسز خان مختلف ٹی وی شوز میں رشتہ کلچر، دلہا دلہن کی ترجیحات اور بدلتے معاشرتی رویوں پر بیباک انداز میں اظہار خیال کرتی ہیں۔ ان کی صاف گوئی بعض اوقات شدید تنقید کی وجہ بھی بن جاتی ہے۔حال ہی میں ایک پروگرام میں مدعو ہونے پر جب ان سے جسمانی وزن پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے موٹی لڑکیوں سے متعلق نہایت سخت رائے کا اظہار کیا۔مسز خان نے اپنی گفتگو کا آغاز دبلی پتلی لڑکیوں سے کیا اور کہا کہ آج کل سوکھی لڑکیاں اِن ہیں، پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے موٹی لڑکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مسز خان نے کہا کہ وہ اکثر ایسی موٹی لڑکیوں سے ڈیل کرتی ہیں جنہیں بار بار رشتہ بازار میں رد کردیا جاتا ہے۔ ان کے بقول یہ لڑکیاں چاہے جتنا بھی خود کو سنوار لیں، ان پر کوئی فیشن نہیں جچتا۔ ان کے مطابق ان لڑکیوں کو بار بار کے انکار کے بعد مایوسی ہوتی ہے اور وہ مزید کھانا کھانے لگتی ہیں، یوں ایک منفی سلسلہ چل پڑتا ہے۔تاہم مسز خان نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسی موٹی لڑکیوں کے پاس اچھی نوکری ہو تو اکثر مرد انہیں قبول کرلیتے ہیں۔سوشل میڈیا پر مسز خان کے ان بیانات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خیالات نہ صرف خواتین کی تضحیک ہیں بلکہ معاشرے میں جسمانی ساخت کی بنیاد پر امتیاز کو مزید فروغ دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…