منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ایس آئی یوٹی کی ڈاکٹر کا مثالی اقدام، انتقال کرنے والے بیٹے کے گردے عطیہ کردیے

datetime 30  جولائی  2025 |

کراچی(این این آئی)سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی)میں گردوں کی ماہر ڈاکٹر نے انسانی خدمت کا مثالی اقدام کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے انتقال کے بعد اس کے گردے عطیہ کر دیے، جس کے سبب ایس آئی یو ٹی میں دو مریضوں کو نئی زندگی مل گئی۔ایس آئی یو ٹی میں ایک نوجوان ڈونر کے گردوں کی کامیاب پیوند کاری کی گئی، جس سے دو مریضوں کو نئی زندگی مل گئی۔

ڈاکٹر مہر افروز کا 23 سالہ سلطان ظفر ڈینٹل سرجری کا طالب علم تھا اور حال ہی میں خطرناک حادثے کا شکار ہوا، ایک ہفتے تک آئی سی یو میں زیر علاج رہا اور بعدازاں ڈاکٹروں نے انہیں دماغی طور پر مردہ (برین ڈیتھ)قرار دیا۔مرحوم سلطان کی والدہ ایس آئی یو ٹی میں کنسلٹنٹ نیفروالوجسٹ ڈاکٹر مہر افروز نے انتہائی دکھ کی گھڑی میں بھی اپنے بیٹے کے دونوں گردے عطیہ کرنے کا باہمت فیصلہ کیا اور ان کے بیٹے کے عطیہ کردہ گردے دو ایسے مریضوں کو لگائے گئے جو طویل عرصے سے ڈائلیسز پر تھے اور ڈونر نہ ہونے کی وجہ سے انتظار کی فہرست میں شامل تھے۔ڈاکٹر مہر افروز کے اس انسان دوست قدم کو طبی برادری اور عوامی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔ایس آئی یو ٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر عادل رضوی نے ڈاکٹر مہر کے فیصلے کوعظیم انسانی خدمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دو زندگیاں بچا کر معاشرے کے لیے ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھی اعضا عطیہ کرنے جیسے عظیم عمل میں آگے بڑھیں تاکہ مزید جانیں بچائی جا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…