منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد ایئرپورٹ پر لاوارث سامان 560 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے؟

datetime 28  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا پر ایک حیران کن دعویٰ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر چھ ماہ تک دعویٰ نہ کیے جانے والے سوٹ کیسز صرف 560 روپے میں عوام کو فروخت کیے جا رہے ہیں، بشرطیکہ وہ ایک مخصوص ویب لنک پر رجسٹریشن کریں۔یہ دعویٰ سب سے پہلے ایک فیس بک پیج ’’ایئرپورٹ اناؤنسمنٹس/ISB‘‘ پر 20 جون کو شیئر کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ ایئرپورٹ پر ہر سال متعدد بیگز لاوارث رہ جاتے ہیں اور مقررہ مدت کے بعد انہیں فروخت کر دیا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک مشکوک ویب سائٹ کا لنک بھی دیا گیا تاکہ لوگ مبینہ طور پر رجسٹریشن کروا کر یہ سامان خرید سکیں۔تاہم تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے 20 اپریل کو اپنے آفیشل فیس بک پیج پر “فیک نیوز الرٹ” کے عنوان سے وضاحت جاری کی، جس میں کہا گیا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر گمشدہ یا غیر دعویٰ شدہ سامان کی فروخت سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبریں بالکل غلط اور گمراہ کن ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق نہ تو ایسی کوئی اسکیم یا پالیسی موجود ہے اور نہ ہی ایسی ویب سائٹس کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے۔ مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ جس ویب سائٹ کا لنک اس پوسٹ میں دیا گیا ہے، وہ ناقابلِ رسائی ہے اور ممکنہ طور پر فراڈ یا فشنگ سائٹ ہو سکتی ہے۔ایئرپورٹ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس قسم کے جعلی دعوؤں سے محتاط رہیں اور غیر مصدقہ خبروں یا مشکوک ویب سائٹس پر ہرگز اعتبار نہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…