ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ہم پختون کسی ے ساتھ نہیں لڑیں گے،اس دفعہ پنجاب کے عوام بھی تھوڑی ہمت دکھائیں اور فوج کے سنگ لڑلیں، ایمل ولی خان

datetime 29  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے اپنے تازہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ ایک بار پھر پختون قوم کو جنگی ماحول میں دھکیلا جا رہا ہے، جو تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختونوں کو ہمیشہ جذباتی نعروں اور غیرت کے نام پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام کا کام لڑائی نہیں، بلکہ امن اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک میں جنگ کے ماحول کو ہوا دینا کسی بھی صورت درست نہیں، اور اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات اور جنگی جنون کو قابو میں لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی جنگ کے حامی نہیں، کیونکہ جنگ کے فیصلے ریاستی اداروں نے کرنے ہوتے ہیں، نہ کہ عوام نے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ پختونوں ہی کو بار بار قربانی کا بکرا کیوں بنایا جاتا ہے؟ کیا پختون ہی صرف فوج کا حصہ ہیں؟ اگر لڑائی ناگزیر ہے تو پھر پنجاب کے عوام بھی اپنی ذمہ داری نبھائیں اور صرف پختونوں پر یہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ ہمیں دنیا کے ان خطوں سے سبق سیکھنا چاہیے جہاں جنگوں نے صرف تباہی پھیلائی ہے، جیسے کہ فلسطین، لیبیا، افغانستان اور عراق۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں رہی، اس لیے ہمیں ایسے رویوں سے گریز کرنا ہوگا جو قوموں کو ٹکراؤ کی طرف لے جائیں۔

اے این پی کے صدر نے واضح کیا کہ ان کا نظریہ امن، رواداری اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور بھارت جیسے ایٹمی طاقتوں کے درمیان اگر جنگ ہوتی ہے تو اس کا نقصان دونوں جانب کے عوام کو ہوگا، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے حالات کو قابو میں رکھا جائے۔

آخر میں ایمل ولی خان نے اپیل کی کہ پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے چاہییں، تاکہ تجارت، روزگار اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کہیں کردار ادا کرنا پڑا تو ان کی جماعت امن کی خاطر اپنا حصہ ضرور ڈالے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…