ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

ہم پختون کسی ے ساتھ نہیں لڑیں گے،اس دفعہ پنجاب کے عوام بھی تھوڑی ہمت دکھائیں اور فوج کے سنگ لڑلیں، ایمل ولی خان

datetime 29  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے اپنے تازہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ ایک بار پھر پختون قوم کو جنگی ماحول میں دھکیلا جا رہا ہے، جو تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختونوں کو ہمیشہ جذباتی نعروں اور غیرت کے نام پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام کا کام لڑائی نہیں، بلکہ امن اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک میں جنگ کے ماحول کو ہوا دینا کسی بھی صورت درست نہیں، اور اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات اور جنگی جنون کو قابو میں لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی جنگ کے حامی نہیں، کیونکہ جنگ کے فیصلے ریاستی اداروں نے کرنے ہوتے ہیں، نہ کہ عوام نے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ پختونوں ہی کو بار بار قربانی کا بکرا کیوں بنایا جاتا ہے؟ کیا پختون ہی صرف فوج کا حصہ ہیں؟ اگر لڑائی ناگزیر ہے تو پھر پنجاب کے عوام بھی اپنی ذمہ داری نبھائیں اور صرف پختونوں پر یہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ ہمیں دنیا کے ان خطوں سے سبق سیکھنا چاہیے جہاں جنگوں نے صرف تباہی پھیلائی ہے، جیسے کہ فلسطین، لیبیا، افغانستان اور عراق۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں رہی، اس لیے ہمیں ایسے رویوں سے گریز کرنا ہوگا جو قوموں کو ٹکراؤ کی طرف لے جائیں۔

اے این پی کے صدر نے واضح کیا کہ ان کا نظریہ امن، رواداری اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور بھارت جیسے ایٹمی طاقتوں کے درمیان اگر جنگ ہوتی ہے تو اس کا نقصان دونوں جانب کے عوام کو ہوگا، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے حالات کو قابو میں رکھا جائے۔

آخر میں ایمل ولی خان نے اپیل کی کہ پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے چاہییں، تاکہ تجارت، روزگار اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کہیں کردار ادا کرنا پڑا تو ان کی جماعت امن کی خاطر اپنا حصہ ضرور ڈالے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…