اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7روپے 41پیسے کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ منشور میں کئے گئے وعدے کو پورا کرنے کا وقت آگیا ،معیشت میں بنیادی استحکام آ چکا ہے، ان مسائل جنہوں نے 77سال ملک کو غربت کی طرف دھکیلا، اگر جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینکا تو یہ ریلیف اور آئندہ آنے والے ریلیف بے معنی ہوجائیں گے، معیشت کی بہتری کیلئے سرجری کرنی ہوگی، اینٹی بائیوٹک سے کام نہیں چلے گا۔
اسلام آباد میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کے پیکیج کے اعلان کیلئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج عید کے موقع کی مناسبت سے پاکستان کی معاشی ترقی و استحکام کیلئے ایک ادنی سے خوش خبری سنانے کیلئے آیا ہوں، اللہ کے فضل سے وہ وعدہ پورا ہوا جس کا نواز شریف نے (ن) لیگ کے منشور میں اعلان کیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ جون 2024ء میں گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی قیمت 48روپے 70پیسے تھی وہ اس وقت 45روپے 5پیسے فی یونٹ ہے، آج گھریلو صارفین کیلئے مزید 7روپے 41پیسے فی یونٹ کمی کر رہے ہیں، گھریلو صارفین کو 34روپے 37پیسے فی یونٹ بجلی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت فی یونٹ 58روپے 50پیسے تھی، سب کی کاوشوں سے وہ قیمت 48روپے 19پیسے ہوچکی ہے، آج اس میں مزید 7روپے 59پیسے کمی کا اعلان کر رہا ہوں جس کے بعد صنعتی صارفین کیلئے فی یونٹ 40 روپے 60پیسے ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری سنبھالی تو ملک ڈیفالٹ ہونے والا تھا، آئی ایم ایف کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھا، پوری قوم خوف زدہ تھی کی حالات کس کروٹ بیٹھیں گے، ہم نے انتہائی دشوار گزار سفر طے کیا اور ملک کو ڈیفالٹ سے باہر لے آئے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کرنے والے خوشی سے مرے جارہے تھے کہ پاکستان اب دیوالیہ ہوکر رہے گا مگر ایسا نہ ہوا، یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور اسے توڑا۔وزیراعظم نے کہا کہ میں کھلے دل کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہوں کہ اس سارے عمل میں آرمی چیف جنرل سید محمد عاصم منیر اور ان کے رفقائے کار کا مجھے اور میری ٹیم کو بھرپور تعاون حاصل رہا اور کلیدی کردار رہا۔شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ دور میں بجلی کے زائد نرخ نے لوگوں کو بے روزگار کیا، بجلی کا بل بھرنے والا سوچتا تھا کہ بچے کی دوائی کیسے خریدوں؟ یہ عوام کا قربانی بھرا دور ہے، آج میں ایک ادنی سا تحفہ قوم کو دینا چاہتا ہوں، قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، ہمارے قائد نواز شریف مشنور میں کہا تھا کہ مہنگائی 2026 میں سنگل ڈیجٹ میں لے آئیں گے مگر یہ وعدہ 2025 میں ہی پورا ہوگیا، ایک سال میں پیٹرول کی قیمت میں 38فیصد کمی آئی، اس پورے خطے میں پیٹرول کی قیمت سب سے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال محصولات کی وصولی میں 35فیصد اضافہ کرنے جارہے ہیں، گزشتہ سال یہ شرح 30فیصد تھی، اس سے قرض لینے میں کمی آجائے گی یہی بہتر ہے کہ ہم اپنی آمدنی خود پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی زائد قیمت ترقی کی راہ میں ہمالیہ کی مانند رکاوٹ ہے، ہماری زراعت، ایکسپورٹ اور صنعت کچھ بھی ترقی نہیں کرسکتی، جو ہوگیا سو ہوگیا، ہم ایک مشکل سفر طے کرکے آئے ہیں، بجلی سے متعلق بنائی گئی ٹاسک فورس یہاں موجود ہے جس نے دن رات کوششیں کیں جس نے بڑی مشکل سے آئی ایم ایف کو منایا، انہوں نے اچھے اچھے آپشن پیش کیے مگر آئی ایم ایف نے ہم نے انکار کیا، ہم نے پھر کوششیں کیں خدا خدا کرکے کفر ٹوٹا اور آئی ایم ایف راضی ہوا یوں سمجھیں کہ آئی ایم ایف نے ہم پر احسان کیا اور بجلی کی قیمت میں کمی کی اجازت دی۔آئی پی پیز کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، آئی ایم ایف سے کہا کہ آپ نے بہت کمالیا اب قوم کو کچھ دیں اور بات کریں، اس ٹاسک فورس نے جس طرح آئی پی پیز سے بات کی اسے سراہا جائے، ٹیم کو سردار اویس لغاری نے لیڈ کیا، جنرل ظفر، محمد علی، سیکریٹری پاور و دیگر مبارک باد کے مستحق ہیں، اس ٹیم نے قوم کے تین ہزار 696ارب روپے بچائے ہیں یہ وہ رقم ہے جو اگلے برسوں میں ادا ہونے جارہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کا سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضہ دو ہزار 393ارب روپ کا ہے اس کا بھی بندوبست کرلیا گیا ہے اگلے پانچ برس میں یہ قرضہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا اور گردش نہیں کرے بشرط یہ کہ ہم اپنا چال چلن تبدیل کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ جنکو پاور پلانٹس سالہا سال سے بند پڑے ہیں ایک یونٹ پیدا نہیں ہورہا مگر سالانہ اربوں روپے دیے جارہے ہیں اس سے بڑا ظلم قوم پر کیا ہوگا؟ نقصان قوم کے بلوں میں جارہا ہے، یہ کینسر ہے جسے جڑ سے کاٹنا ہوگا، ہدایت دی کہ اس جنکو پلانٹ کو شفاف طریقے سے بیچ جائے، قبل ازیں ایک پاور پلانٹ بیچا ہے بند شدہ جو 9 ارب روپے میں بیچا ہے اس کا سالانہ سات ارب روپے خرچہ تھا، یہ کسی ایک حکومت کا پیدا کردہ نہیں 77 سالہ بوجھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے مقدمات میں تیزی لانے پر چیف جسٹس کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ایک ملاقات میں میری گزارشات سنیں، سندھ ہائی کورٹ نے صبح اسٹے آرڈر ختم کیا اور شام کو 23 ارب روپے قومی خزانے میں آگئے۔انہوں نے کہا کہ سالانہ 600ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے ہمیں اس چوری کا خاتمہ کرنا ہے، اوپن مارکیٹ قائم کرکے بجلی سستی کرنی ہے، ڈسکوز کو فوری طور پر پرائیوٹ کرنا ہوگا، یہ اگلے اہداف ہیں، زندگی رہی تو بجلی کی قیمت مزید کریں گے۔