جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

دبائو میں آکر عمران خان کو چھوڑا گیا تو قوم کھڑی ہوجائے گی’ جاوید لطیف

datetime 27  دسمبر‬‮  2024 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کی آڑ میں ہمیں بھاشن دیا جا رہا ہے، دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، سول نافرمانی 9مئی سے بڑا جرم ہے، دبائو میں بانی پی ٹی آئی کو چھوڑا گیا تو قوم کھڑی ہوجائے گی، امریکہ نیو کلئیر پاور تک رسائی مانگ رہا ہے، اگر خیرات کی زندگی ملنی ہے تو غیرت کی موت عزیز ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی سیکریٹریٹ ماڈل ٹائون لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں پورا سچ نہیں بولا جا رہا، آج پورا سچ نہیں بولیں گے تو قوم قوم نہیں بن سکے گی۔ جاوید لطیف نے کہا کہ ایک جماعت لابنگ فورم ہائر کرکے ریاست کے خلاف لابنگ کررہی ہو اور ریاست کی لابنگ دنیا میں کیس پیش کرنے کے لیے کمزور نظر آ رہی ہو، لابنگ ہائر کرکے جس طرح پیسہ بولتا نظر آ رہا ہے فارن فنڈنگ ممنوع ہے تو آج یہ بولتی نظر آ رہی ہے۔ریاست کے متعلق جو زبان استعمال ہو رہی ہے تو جمہوریت یاد آرہی ہے، جمہوریت و انسانی حقوق لبنان شام غزہ و فلسطین میں نظر نہ آئے، پاکستان میں مارشل لا پر جمہوریت نظر نہیں آتی، جب 2018 میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا گیا، اس وقت جمہوریت نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ قومی لیڈر جب شہید ہوئی تو کسی نے آواز نہ اٹھائی، ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت پر انسانی حقوق و آئین کی بالادستی نظر نہ آئے لیکن اس شخص کیلئے جمہوریت و انسانی حقوق نظر آ رہاہے، امریکی صدر مشکور ہے اس شخص کا وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرکے دیا۔

جاوید لطیف نے کہا کہ جب وہ امریکی دورے کے بعد آئے تو کہا جیسا دوسرا ورلڈ کپ جیت لیا، امریکہ نیو کلئیر پاور تک رسائی مانگ رہا ہے، اگر خیرات کی زندگی ملنی ہے تو غیرت کی موت عزیز ہے، اگر ہمارے اندر مداخلت ہوگی یا ڈکٹیٹ کرکے غلام سمجھ کر کہے گا اس کو پکڑ لو، اس کو چھوڑ دو تو عوام نظر آئے گی۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ جب ہمیں قومی غیرت آئے گی تو پینسٹھ میں بھی غیرت والی قوم نظر آئی ایٹمی دھماکے بھی کیے، اگر نو، 10مئی کسی اور جگہ ہوا یا کسی اور خطے میں ہوئے، نسلی فسادات پھوٹے تو راتوں رات عدالتیں لگیں، ٹوئٹ ری ٹوئٹ والے کو بھی سزائیں دی گئیں، نو مئی کرنے والے بغاوت کرنے کے منصوبہ ساز تھے۔انہوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید منصوبہ بندی کا حصہ تھے، اس ماسٹر مائنڈ کے ساتھ تھے جس نے ادارے میں بغاوت کروائی جو ناکام ہوئی، اگر کسی دوسرے ملک میں باغی پلاننگ کرتا تو گولی مار دی جاتی۔جاوید لطیف نے کہا کہ ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کردو، حقیقت کیوں نہیں بتائی جاتی، دبائو ہے اس کو چھڑوانے کے لئے ، اس کے احسان کا بدلہ چکانا چاہتے ہیں، ایران پر نظریں ہیں چین کا عمل دخل ختم کرنا چاہتے ہیں ان کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایٹمی میزائل بھارت کے پاس ہے تو پاکستان کا بھی حق ہے، ہم بنائیں گے، کسی صورت عالمی قوتوں کے دبائو میں نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم پیچھے نہیں رہیں گے، ڈالر نہیں، پھندا جھول لیں گے، آزادی پر کمپرومائز نہیں کریں گے، ہمیں اداروں سے شکایات پاکستان کے اندر ہیں، اس پر بات کرتے رہیں گے لیکن بھٹو نے پھانسی پر بھی سول نافرمانی کی بات نہیں کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو تاحیات نااہل کیا گیا، قید خانے میں زہر دیا گیا، سول نافرمانی کا اعلان نہیں کیا، آج گھر کا بھیدی گھر کو پڑ گیا، عالمی قوتوں کی خواہش کو بھی پورا کیا، سول نافرمانی 9مئی سے بڑا جرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹا بے بی اژدھا کس نے بنایا، وہ عالمی قوتوں کا منظور نظر کیوں ہے، وہ اس سے کیا کام لینا چاہتی ہیں۔جاوید لطیف نے کہا کہ غیرت کی زندگی سے موت کو گلے لگانا آتا ہے، الیکشن ہوں گے تو اپنی پسندیدہ لیڈر شپ کے پیچھے کھڑے ہوں گے لیکن تقسیم نہیں ہوں گے، مذاکرات کی آڑ میں ہمیں بھاشن دیا جا رہا ہے، دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ عمران خان کو رہا کیاجائے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر دبائو میں بانی پی ٹی آئی کو چھوڑ بھی دیں تو لوگ یہی کہیں گے دبائو میں چھوڑا گیا، اداروں کے ترجمان قوم کو سچ بتا دیں وگرنہ قوم کا نقصان ہوگا، آج سیاست تو ہو رہی ہے، اداروں میں کچھ افراد سہولت کاری کررہے ہیں، گڈ ٹو سی یو نہ کہا جاتا تو ملٹری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوتا ہے، سول کورٹ میں ٹرائل ہوگا تو گڈ ٹو سی یو والے اداروں میں انصاف کہاں سے ملے گا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…