منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ایک شخص نے امریکا بھر میں کروڑوں روپے مالیت کا خزانہ لوگوں کیلئے چھپا دیا

datetime 7  دسمبر‬‮  2024 |

واشنگٹن (این این آئی )امریکا کے کرپٹو کرنسی سے کروڑ پتی بننے والے ایک شخص نے کروڑوں روپے مالیت کا خزانہ ملک بھر میں کئی حصوں میں چھپا دیا اوراس تک پہنچنے کا طریقہ اپنی ایک شائع شدہ کتاب میں بتایا ہے۔میڈیارپورتس کے مطابق جان کولنز بلیک نے گزشتہ دنوں انکشاف کیا کہ انہوں نے اولمپک گولڈ میڈلز، ٹریڈنگ کارڈز، تاریخی نوادرات اور بٹ کوائنز کو 5 ڈبوں میں چھپایا ہے۔اپنی کتاب Theres Treasure Inside میں انہوں نے قیمتی اشیا کے بارے میں بتایا اور ان کی لوکیشنز کے بارے میں اشارے دیے، ان ڈبوں کو زمین میں دفن نہیں کیا سڑک کے قریب پبلک پراپرٹیز میں چھپائے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اس خزانے کی اصل مالیت سے واقف نہیں مگر انہوں نے اس پر 20 لاکھ ڈالرز سے زائد خرچہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ مہم ہر اس فرد کے لیے ڈیزائن کی ہے جو اشاروں کو سمجھ سکے یا اسے چھپے ہوئے خزانے کی تلاش کا خیال اچھا لگتا ہو۔فورسٹ فین نے اس خزانے کو چھپایا تھا اوراسے تلاش کرنا اتنا مشکل ثابت ہوا کہ متعدد افراد ہلاک ہوگئے، جان کا کہنا ان کے خزانے کی تلاش بھی مشکل ہے مگر وہ خطرناک نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…