جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

پنجاب کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی ،طالبہ کے والد اور چچا کا حیران کن بیان

datetime 15  اکتوبر‬‮  2024 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) لاہورنجی کالج میں سیکیورٹی گارڈ کی مبینہ زیادتی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد متاثرہ لڑکی کے والد کا بیان سامنے آگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اے ایس پی شہر بانو نقوی کے ساتھ موجود متاثرہ لڑکی کے والد اور چچا نے کہا کہ ان کی بیٹی کے نام پر ہونے والے احتجاج سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی گھر میں پھسلنے کی وجہ سے زخمی ہوئی، جس کے باعث اس کی کمر پر چوٹ آئی اور اسے آئی سی یو میں داخل کروانا پڑا۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے پولیس کو اپنی بیٹی کی میڈیکل رپورٹس فراہم کر دی ہیں، اور احتجاج کی ویڈیوز دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس کے گھر بیٹیاں ہیں وہ اس درد کو سمجھ سکتے ہیں، لیکن ان کی بیٹی کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر اے ایس پی شہر بانو نقوی نے عوام سے درخواست کی کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور کسی کے گھر والوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے ساتھ ایسا کوئی سانحہ پیش آتا تو پولیس خود اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرتی، لیکن مقدمہ درج کرنے کے لیے مصدقہ خبر اور ٹھوس شواہد کا ہونا ضروری ہے۔شہر بانو نقوی نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس خواتین، بچوں، اور معاشرے کے کمزور طبقات کے خلاف ہونے والے جرائم کو سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔ لاہور میں سوشل میڈیا پر نجی تعلیمی ادارے سے متعلق غیر مصدقہ واقعات کی افواہیں پھیلانے کی کوشش کی گئی، جو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…