بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

نجکاری کیلئے صرف مشاورت پر 1 ارب 99 کروڑ روپے خرچ کردیے گئے

datetime 29  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومت نے صرف یہ جاننے کیلئے کہ کسی ادارے کی نجکاری ہو سکتی یا نہیں اس پر 1 ارب 99 کروڑ روپے خرچ کردیے اور پھر نجکاری کا مشورہ ملنے کے بعد اس پر عمل بھی نہیں کیا۔سینیٹر محمد طلال چوہدری کی زیر صدارت سینیٹ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں گزشتہ 5 سالوں میں نجکاری کے عمل پر آنے والے اخراجات اور آمدن پر بریفنگ دی گئی۔سیکرٹری نجکاری نے بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ پانچ سال میں نجکاری ٹرانزیکشنز سے 4 ارب 38 کروڑ روپے آمدن حاصل ہوئی، جبکہ نجکاری پر اس دوران 1 ارب 40 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، آپریشنل اخراجات ملا کر مجموعی رقم 1 ارب 99 کروڑ روپے خرچ ہوئی۔

سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ نیشنل پاور پارک کمپنی کو نجکاری لسٹ سے نکال دیا گیا، نیشنل پاور پارک کمپنی کی نجکاری کیلئے 33 کروڑ روپے فنانشل ایڈوائزر کو دیے گئے، پاکستان اسٹیل ملز کو بھی نجکاری کی فہرست سے نکال دیا گیا، اسٹیلز ملز کیلئے تین سالوں میں فنانشل ایڈوائزر کو 12 کروڑ 70 لاکھ روپے ادائیگی ہوئی، جناح کنونشن سینٹر کو بھی نجکاری کی لسٹ سے نکال دیا گیا، جناح کنونشن سینٹر پر فنانشل ایڈوائزر کو 70 لاکھ روپے پیمنٹ ہوئی۔رکن کمیٹی سینیٹر بلال احمد نے پوچھا کہ نجکاری کیلئے فنانشنل ایڈوائزر ہائر کیوں کیا جاتا ہے؟سیکریٹری نجکاری ڈویژن نے جواب دیا کہ فنانشل ایڈوائزر بتاتا ہے کہ ادارے کی نجکاری ہو سکتی یا نہیں۔

چیئرمین کمیٹی طلال چوہدری نے پوچھا کہ اتنا خرچہ کرکے پھر نجکاری کیوں روک دی گئی؟سیکرٹری نجکاری نے جواب دیا کہ حکومت نے ہی بعد میں اس کمپنی کی نجکاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ، گزشتہ سال کابینہ نے اسٹیل ملز کو ڈی لسٹ کر دیا تھا، سٹیل ملز کی نجکاری نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ صرف ایک بڈر رہ گیا تھا، حکومت کا خیال تھا کہ ایک بڈر کے ساتھ جانا ٹھیک نہیں رہے گا، جناح کنونشن سینٹر کی نجکاری پر سی ڈی اے کے کچھ اعتراضات تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…