اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائی کورٹ،حکومت کو بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کی زندگی کا تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت

datetime 13  جولائی  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاق کو بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور اْن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی زندگی اور صحت کا تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔عدالت عالیہ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات کی فراہمی اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق بشریٰ بی بی کی دائر درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹادی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے، جس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی زندگی اور صحت کی حفاظت یقینی بنائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت عدالت کی جانب سے فراہم کی گئی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد یقینی بنائے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل میں وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں، جن کے وہ حقدار ہیں۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جب یہ درخواست دائر کی گئی تھی، تب بانی پی ٹی آئی جیل میں سزا کاٹ رہے تھے، موجودہ صورتحال میں درخواست گزار خود بھی جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں۔عدالت عالیہ اسلام آباد کے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست میں جو معاملہ اٹھایا گیا ہے، وہ بانی پی ٹی آئی تک محدود نہیں بلکہ عمومی نوعیت کا ہے، کہا گیا کہ ایک قیدی کے کوئی حقوق نہیں جو کہ مکمل طور پر غلط ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ قید کا مطلب غیر انسانی برتاؤ بالکل بھی نہیں ہے، قید کا مقصد بغیر کسی جسمانی اور دماغی دباؤ کے قیدی کی اصلاح ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اس عدالت نے مقدمہ خالد حسین بنام وزارت انسانی حقوق میں گائیڈ لائنز فراہم کردی ہیں، وفاقی حکومت تمام جیلوں، بالخصوص اڈیالہ جیل میں ان گائیڈ لائنز پر عمل درآمد کرانے کی پابند ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ بظاہر اب تک وفاقی حکومت جیلوں میں ان گائیڈلائنز پر عمل درآمد نہیں کرا سکی، وفاقی حکومت ملک کی تمام جیلوں میں فراہم کردہ گائیڈ لائنز پر فوری عمل درآمد یقینی بنائے۔فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان انسانی حقوق سے متعلق بہت سے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کنندہ ہے، بظاہر وفاقی حکومت نے ان معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…