اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

مٹھی بھر اشرافیہ کی خواہشات انرجی سیکٹر پر بوجھ بن گئیں

datetime 1  مئی‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی) پاکستان کی انرجی ڈیمانڈ اور بیسک ڈیمانڈ میں بڑا فرق موجود ہے، گزشتہ 6 سال کا ڈیٹا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی انرجی ڈیمانڈ گرمیوں کے عروج پر 30ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے جو سردیوں کے دوران محض 12 ہزار 3 سو میگاواٹ ہوتی ہے، جس کی بنیادی وجہ گرمیوں میں ایئرکنڈیشنز کا بڑھنے والا استعمال ہے۔

تاہم، پاکستان میں ایئرکنڈیشن بہت کم لوگ استعمال کرتے ہیں اور پاکستانیوں کی اکثریت غربت کی وجہ سے ایئرکنڈیشن استعمال نہیں کرسکتی۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 37.2 ہے جبکہ 24.8 فیصد عوام کو نکاسی آب کی سہولیات بھی حاصل نہیں، 9.3 فیصد افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہیں، ایسے میں اشیائے تعیشات استعمال کرنے والے افراد کی تعداد بہت کم ہے۔اس کے علاوہ ایک اندازے کے مطابق جاری کی گئی بجلی میں سے بلوں کی صورت میں 71 فیصد وصولی ہوپاتی ہے، جو سرکولر ڈیبٹ بڑھنے کی اہم وجہ ہے، ہر آنے والی حکومت سرکولر ڈیبٹ کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے تاہم اس پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہیں، 2013 میں سرکولر ڈیبٹ 450 ارب روپے تھا، جو 2018 میں بڑھ کر 1,148 ارب روپے ہوا، اور مارچ 2022 میں یہ 2,467 ارب روپے کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔سرکولر ڈیبٹ پاکستان کی جی ڈی پی کا 3.8 فیصد اور قرضوں کا 5.6 فیصد ہوچکا ہے۔

اگر موثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2025 تک سرکولر ڈیبٹ چار ٹریلین روپے تک پہنچ جائیگا۔ سردیوں اور گرمیوں کے درمیان اس بجلی کی ڈیمانڈ کا یہ نمایاں فرق واضح کرتا ہے کہ حکومت نے مٹھی بھر اشرافیہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اضافی پیداواری صلاحیت کے حامل پاور جنریشن پلانٹس لگا رکھے ہیں، جس کی وجہ سے غیر استعمال شدہ بجلی کا بوجھ بھی سرکاری خزانے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 2025 تک غیر استعمال شدہ بجلی کی مد میں ادائیگیاں 1,500ارب روپے تک پہنچ جائیں گی۔ کیا بدترین معاشی حالات کا شکار ملک مٹھی بھر اشرافیہ کی خاطر اس قدر بڑے خسارے کا متحمل ہوسکتا ہے؟ڈائریکٹر لمس انرجی انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر فیاض چوہدری نے اس حوالے سے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایئرکنڈیشن کا استعمال کم کرنے کے لیے ہوادار عمارات بنانے پر توجہ دینی چاہیے، جہاں تک الیکٹرانک گاڑیوں کی بات ہے تو یہ نہ صرف ماحول کے لیے بہترین ہیں، بلکہ یہ ہمارے درآمدی بل کو گھٹانے میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…