اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کوئی اس ملک کی شریانیں بند نہیں کر سکتا جب تک عدالتیں بیٹھی ہیں جمہوری حقوق کا تحفظ کرینگے‘لاہور ہائیکورٹ

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

لاہور (ا ین این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور مظاہروں کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا جبکہ ریمارکس دیئے کہ کوئی اس ملک کی شریانیں بند نہیں کر سکتا،جب تک عدالتیں بیٹھی ہیں، جمہوری حقوق کا تحفظ کریں گے۔پیر کے روز ہائیکورٹ کے معزز جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کی ۔

دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مظاہروں کی وجہ سے لوگ مشکل میں ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس کیس میں فریق نہیں بنایا گیا، جب لوگوں کوحقوق نہ ملیں تو مظاہروں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا، ملک کے معاشی حقوق کا تحفظ کرنا ضروری ہے، ملک اس وقت دیوالیہ ہونے والا ہے۔جسٹس جواد حسن نے کہا کہ جب تک عدالتیں بیٹھی ہیں، جمہوری حقوق کا تحفظ کریں گے۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ حالات یہ ہیں کہ ایک شخص کو گولیاں لگ رہی ہیں اور مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ پنجاب حکومت کی ذمے داری ہے۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ایک مضبوط جے آئی ٹی بنے تو پتہ چلے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ جے آئی ٹی بنا لیں، آپ کی صوبے میں حکومت ہے۔جسٹس جواد حسن نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مظاہرہ پرامن ہو۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے پنجاب حکومت کو امن و امان کنٹرول کرنے کے لیے لکھا تھا، ہم نے کہا کہ موٹر وے کھول دیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس کو عوامی مفاد میں دیکھنا ہے، پنجاب میں ایک موٹر وے اور دوسرا جی ٹی روڈ اہم شاہراہیں ہیں، دونوں شاہراہیں صوبے کی شریانیں ہیں جن میں سے ایک کو مکمل بند کر دیا گیا ہے۔جسٹس جواد حسن نے کہا کہ کوئی اس ملک کی شریانیں بند نہیں کر سکتا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ صوبے پابند ہیں کہ وفاقی حکومت جو ہدایت دے اس پر عمل کریں۔عدالت نے تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کر دی۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لیے نوٹس بھی جاری کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…